by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کراچی میں شارٹ ٹرم اغوا کیس پر پولیس کے دو یونٹوں میں تصادم، کئی پولیس افسران و اہلکار زخمی

کراچی میں شارٹ ٹرم کڈنیپنگ کے کیس میں ضلعی پولیس اور اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹس میں تصادم ہوگیا، کئی پولیس افسران و اہلکار زخمی ہوگئے۔

کراچی کے ضلع وسطی میں ایک تاجر اور بچے کو اغوا کرنے کے مقدمے میں ایک ملزم کو تیموریہ تھانے کی پولیس نے گرفتار کیا۔ دوران تفتیش ملزم نے مزید چار ملزمان کی نشاندہی کی۔

تیموریہ پولیس نے ناظم آباد تھانے میں اندراج کرکے ملزمان کو ایک عمارت سے گرفتار کیا، لیکن یہاں اچانک اسپیشل انویسٹی گیشن یونٹ کی ٹیم پہنچی اور ملزمان کو پولیس سے اپنی تحویل میں لینے کی کوشش کی جس پر دونوں ٹیموں میں تصادم ہوگیا اور عوام جمع ہوگئے۔

تیموریہ پولیس ملزمان کو لے کر تھانے پہنچ گئی، لیکن معاملہ یہاں نہیں رکا بلکہ دوسری طرف ایس آئی یو کی ٹیم سینٹرل پولیس کے افسران کو اٹھا کر اپنے سیل لے گئی جنہیں بعد میں افسران کی مداخلت کے بعد چھوڑ دیا گیا۔

 اس دوران ڈی ایس پی شادمان منہاج الحسن اور اے ایس آئی راحیل زخمی ہوگئے۔ سینٹرل پولیس کے سینئر افسر کی ہدایت پر ایس آئی یو کے کچھ افسران کو حراست میں لیا گیا لیکن بعد میں چھوڑ دیا گیا۔

پولیس کے دو یونٹس میں تصادم کیوں ہوا؟ اس کی انکوائری ڈی آئی جی ساوتھ کررہے ہیں۔ پولیس کے مطابق اس تصادم کے دوران ایک ملزم فرار بھی ہوگیا۔ فرار ہونے والے ملزم کے متعلق ذرائع کہتے ہیں کہ وہ ایس آئی یو پولیس کا مخبر بھی تھا۔



PNP

Comments are closed.