by Rao Imran Suleman
Rao Nama

روس کو ڈیزل فروخت کرنے کی اجازت پر زیلنسکی کی ٹرمپ پر کڑی تنقید

یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی عالمی منڈیوں میں فروخت کی اجازت دینے سے متعلق معاہدے پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس اقدام سے روس کی توانائی کی تجارت پر عائد پابندیوں میں مزید نرمی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، زیلنسکی نے برسلز میں یورپی یونین کے سربراہی اجلاس کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ روسی ڈیزل اور کوئلے کی تجارت سے متعلق فیصلوں کو الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا، کیونکہ مستقبل میں روسی گیس کی فروخت کا معاملہ بھی سامنے آ سکتا ہے۔

یوکرینی صدر کا کہنا تھا کہ روس کو توانائی کی مصنوعات عالمی منڈیوں میں فروخت کرنے کی اجازت دینے سے اسے اضافی مالی وسائل حاصل ہو سکتے ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے اقدامات روس پر دباؤ برقرار رکھنے کی کوششوں کو متاثر کر سکتے ہیں، جبکہ یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے روس پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے۔

زیلنسکی نے روس کے منجمد اثاثوں کے مستقبل سے متعلق ایک مبینہ امریکی تجویز پر بھی تشویش ظاہر کی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق، اس تجویز میں منجمد روسی اثاثوں کے ایک حصے کو واشنگٹن کی نگرانی میں قائم مالیاتی انتظام کے تحت منتقل کرنے کے امکان پر غور کیا گیا تھا۔

یوکرینی صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ روس فی الحال امن مذاکرات میں سنجیدہ دلچسپی نہیں رکھتا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یوکرین ایسا کوئی معاہدہ قبول نہیں کر سکتا جس کے نتیجے میں منجمد روسی اثاثے دوبارہ روس کو واپس مل جائیں۔

زیلنسکی کے ان بیانات سے روس کے خلاف اقتصادی پابندیوں، توانائی کی عالمی تجارت اور جنگ کے خاتمے کے لیے سفارتی دباؤ برقرار رکھنے کے معاملے پر امریکہ اور یوکرین کے مؤقف میں اختلافات نمایاں ہوتے ہیں۔

PNP

Comments are closed.