ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات میں نیتن یاہو کی حمایت کردی، ایران کو نئی جنگ کا خطرہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی انتخابات سے قبل ایک بار پھر بنیامین نیتن یاہو کی مکمل حمایت کے اعلان کے چند گھنٹے بعد، ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم امریکہ کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں۔ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر ردعمل دیتے ہوئے لکھا کہ آخری بار جب آپ نے معاملہ ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کی کوشش کی تھی تو ایران پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا تھا۔ کیا آپ دوبارہ اپنی قسمت آزمانا چاہتے ہیں؟ ضرور آزمائیں، لیکن محتاط رہیں، ہمارے بھی کچھ نامکمل کام باقی ہیں۔
عباس عراقچی کا یہ بیان ٹرمپ اور نیتن یاہو کے حالیہ بیانات کے ردعمل میں سامنے آیا ہے، جن میں دونوں رہنماؤں نے ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ایران کے رویے میں تبدیلی نہ آئی تو امریکہ اور اسرائیل مل کر معاملہ ختم کر دیں گے۔ اتوار کی شب سوشل میڈیا پر جاری اپنے پیغام میں عراقچی نے مزید لکھا کہ نیتن یاہو جیل سے بچنے کے لیے امریکہ کو ایک اور جنگ کی طرف دھکیل رہے ہیں، خواہ اس جنگ کے اسرائیل پر جو بھی نتائج مرتب ہوں، چہ جائیکہ امریکہ کے صدر پر۔ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات تقریباً ایک ہفتے بعد، 27 اکتوبر کو منعقد ہونے والے ہیں۔ ان انتخابات کے نتائج بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کے مستقبل پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی انتخابات سے قبل وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی حمایت میں کھل کر سامنے آتے ہوئے عوام سے ان کے حق میں ووٹ دینے کی درخواست کی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے نیتن یاہو کو عظیم جنگجو وزیر اعظم اور امن کا شراکت دار قرار دیتے ہوئے فروری میں ایران پر حملوں کے دوران امریکا کا ساتھ دینے پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ نیتن یاہو نے شدید اندرونی و بیرونی مخالفت کے باوجود انتہائی کٹھن حالات میں بھی مضبوطی اور بہادری کا مظاہرہ کیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیل میں 27 اکتوبر کو پارلیمانی انتخابات کا انعقاد شیڈول ہے، جن میں نیتن یاہو اکثریت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسرائیل میں وزیر اعظم کا انتخاب براہ راست عوامی ووٹ کے بجائے پارلیمان میں اتحاد سازی کے ذریعے عمل میں آتا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق موجودہ سیاسی صورتحال میں کسی بھی امیدوار کے لیے اقتدار تک پہنچنے کا واضح راستہ موجود نہیں ہے، اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کے معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات کے باعث اسرائیل میں ٹرمپ کی عوامی حمایت میں کمی واقع ہوئی ہے، جس سے نیتن یاہو اور ان کی دائیں بازو کی جماعت لیکوڈ کو اس تائید سے خاطر خواہ فائدہ ملنے کا امکان غیر یقینی ہے۔
دوسری جانب، خبر رساں اداروں اور اخباری انکشافات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی جانب سے 7 اکتوبر کے حملوں سے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کیے جانے کے باوجود نیتن یاہو کی جانب سے فوری کارروائی نہ کرنے کی وجوہات بھی سامنے آئی ہیں۔ دستاویزات اور رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے سکیورٹی سربراہان اور امارتی حکام کو آگاہ کیا تھا کہ وہ غزہ پر حملوں کی اجازت اس لیے نہیں دینا چاہتے تاکہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بحالی کی جاری کوششوں کو نقصان نہ پہنچے۔
PNP
Comments are closed.