بھارتی اداکار عمران خان نے ملک چھوڑنے کا نوٹس عدالت میں چیلنج کردیا
عمران خان نے غیر ملکیوں کے علاقائی رجسٹریشن دفتر (ایف آر آر او) کی جانب سے 14 اکتوبر کو جاری کیے گئے نوٹس کے خلاف ہفتے کو درخواست دائر کی۔
یہ نوٹس 10 اکتوبر کو ممبئی کے آگست کرانتی میدان کے قریب عمران خان کو حراست میں لیے جانے کے بعد جاری کیا گیا تھا۔ رپورٹس کے مطابق وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف طلبہ کے احتجاج کے دوران وہاں موجود تھے، جس پر حکام نے ان پر امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا۔
امریکی شہری عمران خان کا مؤقف ہے کہ وہ دو سال کی عمر سے بھارت میں مقیم ہیں اور ان کی اوورسیز سٹیزن آف انڈیا (او سی آئی) حیثیت کو نظرانداز کرتے ہوئے انہیں ملک چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ ان کے مطابق یہ اقدام بھارتی آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت حاصل حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ احتجاجی مقام کے قریب موجودگی یا نقل و حرکت پر پابندیوں سے متعلق تشویش کا اظہار ملک چھوڑنے کا حکم دینے کے لیے کافی بنیاد نہیں۔ اداکار نے احتجاجی تنظیم سے تعلق اور ہجوم کو اکسانے کے الزامات بھی مسترد کردیے۔
عمران خان نے مؤقف اختیار کیا کہ حکام نے واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج کو نظرانداز کیا اور ایف آر آر او کے نوٹس جاری کرنے کے قانونی اختیار پر بھی سوال اٹھایا۔
دوسری جانب ایف آر آر او نے الگ شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے اداکار سے وضاحت طلب کی ہے کہ شہریت ایکٹ 1955 کی دفعہ 7D(e) کے تحت ان کی او سی آئی رجسٹریشن کیوں منسوخ نہ کی جائے۔ انہیں جواب دینے کے لیے 15 دن کی مہلت دی گئی ہے۔
عمران خان نے عدالت سے ملک چھوڑنے کے نوٹس کو کالعدم قرار دینے اور مقدمے کی سماعت مکمل ہونے تک اس پر عمل درآمد روکنے کی استدعا کی ہے۔ ان کے وکلا فوری سماعت کے لیے بمبئی ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے۔
PNP
Comments are closed.