کراچی(پی این پی) جناح اسپتال میں ریبیز کے باعث ایک اور مریض دم توڑ گیا، جس کے بعد سندھ میں رواں برس ریبیز سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد 40 ہوگئی ہے۔
جاں بحق ہونے والے 38 سالہ جاوید کا تعلق حیدرآباد سے تھا، جسے 4 ماہ قبل آوارہ کتے نے چہرے پر کاٹ لیا تھا۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق مریض کو پانی سے خوف، بخار اور نگلنے میں دشواری کی شکایت پر جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں لایا گیا، جہاں طبی معائنے کے بعد نیورو میڈیسن ٹیم نے مریض میں ریبیز انسیفلائٹس کی تشخیص کی۔ مریض کی حالت تشویشناک تھی اور دورانِ علاج اسے ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین کی خوراک بھی دی گئی، تاہم تمام تر کوششوں کے باوجود وہ جانبر نہ ہوسکا۔ جناح اسپتال میں رواں برس ریبیز کا یہ گیارہواں کیس ہے، جبکہ سندھ میں ریبیز سے ہونے والی اموات کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق ریبیز ایک مہلک مرض ہے، جس کی علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض کی جان بچانا انتہائی مشکل ہوجاتا ہے۔ کتے یا کسی دوسرے مشتبہ جانور کے کاٹنے یا خراش آنے کی صورت میں زخم کو فوری طور پر صابن اور بہتے پانی سے کم از کم 15 منٹ تک دھونا، فوری طبی امداد حاصل کرنا اور ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین اور ضرورت پڑنے پر امیونوگلوبیولن لگوانا ضروری ہے۔ چہرے اور سر پر کاٹنے کے زخم بالخصوص زیادہ خطرناک ہوسکتے ہیں، اس لیے علاج میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔
PNP
Comments are closed.