by Rao Imran Suleman
Rao Nama

فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع، ترک اعلیٰ حکام کے ایرانی صدر سے وفود کی سطح پر مذاکرات

فوٹو: رائٹرز 

ایران نے مکہ اتحاد کے رکن ملکوں کے ساتھ تہران میں ہونے والے مذاکرات پر بیان جاری کر دیا۔

ایران کی فارس نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی حکام نے پریس ریلیز میں کہا ہے کہ ”چاروں ملکوں کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے بات چیت جاری رکھنے پر اتفاق ہوا ہے۔”

مذاکرات کی میزبانی ایران کے سیکیورٹی چیف محسن رضائی نے کی۔ 

اجلاس میں سعودی وزیر دفاع خالد بن سلمان، پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالین شریک ہوئے۔ اجلاس کا مرکزی موضوع ”خطے میں امن و سلامتی“ تھا۔

اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر، سعودی وزیر دفاع، ترک اعلیٰ حکام کے ایرانی صدر سے وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے، محسن رضائی اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اعلیٰ حکام شریک تھے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اسلامی ملکوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کی حمایت کرتا ہے۔

مکہ معاہدے میں شریک ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے اعلیٰ حکام ایران پہنچے، محسن رضائی نے پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام کا استقبال کیا۔

پاکستان کی نمائندگی کے لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے، وزیر داخلہ محسن نقوی بھی ایران میں موجود ہیں۔

ایرانی میڈیا کے مطابق سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان ایران پہنچے، سعودی سی 130 طیارہ تہران کے مہرآباد ایئرپورٹ پر لینڈ ہوا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا تھا کہ آج کے اجلاس کی تجویز فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورے کے دوران پیش کی گئی تھی، فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تجویز کا ایران کی جانب سے خیر مقدم کیا گیا ہے۔

ایران نے ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے دورۂ تہران کو سلامتی کے نظام میں تعاون کی جانب اہم قدم قرار دیا۔

سعودی وزارتِ خارجہ کے عہدیدار کا کہنا ہے کہ مکہ دفاعی اتحاد کے ارکان اور ایرانی قیادت کی ملاقات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے، مکہ معاہدے کے ممالک کشیدگی میں کمی کی ثالثی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

وزارت خارجہ کا مزید کہنا ہے کہ مکہ معاہدے کے ممالک بحران کے سفارتی حل کی حوصلہ افزائی کی حمایت کرتے ہیں، ایران سے ملاقات کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کے دائرہ کار میں آتی ہے۔



PNP

Comments are closed.