مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور جلد انصاف کی فراہمی کیلئے متبادل نظام متعارف کرانے کا فیصلہ
لاہور( پی این پی)پنجاب میں عدالتی مقدمات کا بوجھ کم کرنے اور تنازعات کے حل کیلئے متبادل نظام متعارف کرانے کے سلسلے میں متبادل تنازعات کے حل کاآرڈیننسقائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے سپرد کر دیا گیا ۔
آرڈیننس کے متن کے مطابق طویل عدالتی کارروائی کے بجائے ثالثی، مصالحت اور باہمی مذاکرات کے ذریعے تنازعات حل کرنے کیلئے اتھارٹی قائم کی جائے گی۔ عدالتوں میں زیر التوا ء مقدمات فریقین کی رضامندی سے اتھارٹی کو بھجوائے جا سکیں گے جبکہ اتھارٹی کے ذریعے تنازعہ حل ہونے پر عدالت فیصلہ اور ڈگری جاری کرے گی۔ تنازعات کے حل کیلئے لاہور ہائیکورٹ سے نامزد جج، منظور شدہ ثالث یا منظور شدہ مرکز خدمات انجام دیں گے۔ اتھارٹی ثالثوں، مراکز اور تربیتی اداروں کی منظوری، تجدید اور نگرانی کا نظام وضع کرنے کی مجاز ہوگی اور منظور شدہ ثالثوں و مراکز کی فہرست لاہور ہائیکورٹ کے رجسٹرار کو فراہم کرے گی۔آرڈیننس کے تحت خاندانی تنازعات، بچوں کی سرپرستی و تحویل، تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد، معاہدوں کی مخصوص تکمیل، ہرجانے، منقولہ جائیداد یا اس کی قیمت کی وصولی، مشترکہ غیر منقولہ جائیداد کی تقسیم، مشترکہ جائیداد کے حسابات، حق وراثت، ڈیکلریشن، جانشینی، پیشہ ورانہ غفلت، صارفین کے تنازعات اور کاپی رائٹ سے متعلق معاملات متبادل نظام کے تحت حل کرنے کیلئے بھجوائے جا سکیں گے۔
عدالت فریقین کو باہمی رضامندی سے منظور شدہ ثالث یا مرکز منتخب کرنے کا موقع دے گی، تاہم اتفاق نہ ہونے کی صورت میں عدالت فہرست میں سے ثالث یا مرکز منتخب کر سکے گی۔ کارروائی میں فریقین خود، اپنے مجاز نمائندوں یا وکلا ء کے ذریعے شرکت کر سکیں گے جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سمیت متعلقہ فریقین کو ضرورت کے مطابق ویڈیو لنک اور جدید ذرائع سے شرکت کی سہولت بھی حاصل ہوگی۔ خواتین سے متعلق تنازعات میں ترجیحی بنیادوں پر خاتون ثالث کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ تنازعات کے حل کی فیس اور اخراجات فریقین باہمی رضامندی سے تقسیم کریں گے جبکہ کارروائی اور بات چیت کو خفیہ رکھا جائے گا۔قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے بعد آرڈیننس ایوان میں منظوری کیلئے پیش کیا جائے گا ۔
PNP
Comments are closed.