کابل(نیوزڈیسک)افغانستان کے دارالحکومت کابل میں "افغانستان ریجنل کوآپریشن انیشی ایٹو” کا سربراہ اجلاس منعقد ہوا جس میں افغان حکام اور متعدد ممالک کے خصوصی ایلچیوں نے شرکت کی۔ افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ امیر خان متقی نے اپیل کی کہ علاقائی تعاون کو فروغ دیا جائے تاکہ خطے کے عوام کو فوائد پہنچائے جا سکیں۔اجلاس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو افغانستان کے منجمد غیر ملکی اثاثوں کو واپس کرنا ہوگا۔
متقی نے کہا کہ علاقائی تعاون کا مرکز مشترکہ علاقائی مفادات کی بنیاد پر روابط کے طریقے تلاش کرنا اور رابطے کی تکمیل سے علاقائی اقتصادی ترقی کو فروغ دینا ہے تاکہ خطے کے تمام ممالک کے عوام کو فائدہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ افغان عبوری حکومت کے لیے علاقائی سلامتی بدستور بہت اہم ہے۔ اجلاس کے بعد میڈیا بریفنگ میں انہوں نے افغانستان پر عائد یکطرفہ پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کیا اور اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو افغانستان کے منجمد غیر ملکی اثاثے واپس کرنے چاہیئں۔ان کا کہنا تھا ہے کہ افغانستان کے منجمد اثاثے افغانستان کو واپس کرنے ہوں گے ۔ یہ افغانوں کا حق ہے، افغانستان کے مرکزی بینک کا ستون ہے اور افغانستان کے اثاثے ہیں۔
یاد رہے کہ اگست 2021 کے آخر میں افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد افغانستان پر یکطرفہ پابندیاں عائد کی گئیں اور افغانستان کے مرکزی بینک کے اربوں ڈالر کے سمندرپار اثاثے منجمد کر دیے گئے۔
Trending
- صدر ٹرمپ کی عمان کو دھمکی سے خود امریکی بھی حیران ہیں، سی این این
- کراچی: بفرزون کے قریب شاپنگ سینٹر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- A big honor for Hania Aamir, her name included in Forbes Asia’s ’30 Under 30′ list
- کم پیٹراس نے چونکا دینے والے ‘ڈیٹنگ کے تجربات’ کے بارے میں بات کی۔
- خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
- مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
- فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا لاتعلقی کا اعلان
- کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے ٹیلر سوئفٹ سمیت بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔