لاہور(نیوزڈیسک)سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہےکہ خدا کے واسطے مخلوط حکومت کا نام نہ لیں، اگر اس ملک کے مسائل حل کرنا ہیں تو ایک پارٹی کو اکثریت ملنا ضروری ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور میں ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ ’عوام گھروں سے نکلیں اور ووٹ کاسٹ کریں، انشاءاللہ مہنگائی کا خاتمہ ہوگا اور لوگ خوشحال زندگی بسر کرسکیں گے، یہی لوگوں کی تمنا ہے اور اس خواب کو پورا ہونا چاہیے، اُن لوگوں نے آکر اس خواب کو خراب کیا، جس سے ہمارے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوا، اس سے قبل ٹھیک چل رہا تھا‘۔
انہوں نے کہا کہ ’ہمارے منشور میں سب چیزیں تفصیل سے لکھی ہیں کہ حقوق عوام کے دروازے تک پہنچنے چاہئیں اور ہم پہنچائیں گے‘۔
ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ’خدا کے واسطے مخلوط حکومت کا نام نہ لو، اگر ملک کے مسائل حل کرنا ہیں تو ایک پارٹی کو اکثریت ملنا بہت ضروری ہے، ایک پارٹی کو پورا مینڈیٹ ملنا چاہیے اس کا دارومدار دوسروں پر نہ ہو‘۔
مریم نواز کو وزیراعلیٰ پنجاب بنائے جانے کے سوال پر لیگی قائد نے کہا کہ ’مریم کا رزلٹ کے بعد فیصلہ ہوگا اور یہ پارٹی فیصلہ کرے گی، بلاشبہ مریم کی جدوجہد ہے، بہت برے وقت میں پارٹی کے لیے بہت کام کیا ہے اور شہباز شریف کی بھی بہت خدمات ہیں، اور بھی بہت ساتھیوں کی بہت خدمات ہیں، جیلیں کاٹی ہیں، حمزہ جیسے بچے نے جیلیں کاٹی ہیں، بڑوں نے تو کاٹی ہیں ہم قربانیاں دے کر یہ دن دیکھ رہے ہیں‘۔
Trending
- مٹیاری، 2 برادریوں میں جھگڑا، خاتون سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے
- بلی آئیڈل کا کہنا ہے کہ شائقین ‘وائٹ ویڈنگ’ کے نقطہ کو یاد کرتے ہیں
- یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
- پہلا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
- کائلی جینر ذاتی طور پر ٹموتھی چالمیٹ کو کیا کہتے ہیں؟ دوست فلرٹی عرفی نام ظاہر کرتے ہیں۔
- اوکاڑہ: 3 ملزمان کی لڑکی کے ساتھ گن پوائنٹ پر نازیبا حرکات، اہلخانہ کو ہراساں بھی کیا
- پاکستان کا ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے کا سنگ میل عبور
- امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
- سر پال میک کارٹنی نے آخر کار اپنے پسندیدہ دی بیٹلس ممبر کا نام لیا۔
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔