لبنانی حزب اللہ کے جنرل سیکریٹری نصراللہ نے کہا کہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کے حالیہ شدید حملوں کے نتیجے میں متعدد لبنانی شہید اور زخمی ہوئے ہیں اور اسرائیل اس کی قیمت ادا کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کا مقصد فلسطینیوں کو ان کی سرزمین سے نکالنا ہے۔ حزب اللہ حماس اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات میں مداخلت نہیں کرے گا اور اس کا فیصلہ حماس نے خود کرنا ہے۔
اسرائیلی دفاعی افواج (آئی ڈی ایف) اور حماس کے عسکریت پسندوں کے درمیان غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر خان یونس کے ناصر اسپتال اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں شدید لڑائی جاری رہی۔ اسرائیلی فوج نے 16 تاریخ کو اعلان کیا کہ اسرائیلی فوج 15 فروری کو ناصر اسپتال میں داخل ہوئی اور سرچ اینڈ اریسٹ آپریشن کا آغاز کرتے ہوئے حماس کے 20 سے زائد عسکریت پسندوں کو گرفتار کیا جنہوں نے گزشتہ سال 7 اکتوبر کو اسرائیل پر بڑے پیمانے پر حملے میں حصہ لیا تھا۔ اسرائیلی فورسز کے مطابق انہیں ہسپتال سے حماس کے ہتھیار اور سازوسامان بھی ملے ۔
فلسطینی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی فوج نے اس روز غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح پر حملہ کیا جس میں کم از کم 11 افراد شہید ہوئے۔ 16 فروری کی صبح غزہ پٹی کے محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال 7 اکتوبر کو فلسطین اسرائیل تنازع کے آغاز کے بعد سے اسرائیلی فوجی آپریشن کے نتیجے میں غزہ کی پٹی میں 28 ہزار 775 افراد شہیداور 68 ہزار 552 زخمی ہوچکے ہیں۔
Trending
- کسی بھی مشکوک ایس ایم ایس، لنک یا ای چالان سے متعلق پیغام پر بغیر تصدیق عمل نہ کریں: ٹریفک پولیس نے عوام کو خبردا کر دیا
- ایران کا اردن میں امریکی فضائی اڈے پر بیلسٹک میزائل حملے کادعویٰ
- 400 کلو چاندی چوری کیس، سابق کلکٹر کسٹم سمیت مزید 5 ملزمان گرفتار
- ثاقب چڈھر اور اداکارہ مومنہ اقبال کے درمیان تنازع سے متعلق کیس میں اہم پیشرفت
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔