سڈنی:آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے شاپنگ مال میں 13 اپریل کو چاقو بردار حملہ آور کے ہاتھوں قتل ہونے والے پاکستانی سکیورٹی گارڈ فراز طاہر کی آخری رسوم کل (جمعہ کو) ادا کی جائیں گی۔ اس موقع پر آسٹریلیا کے وزیر اعظم انتھونی البانیز بھی موجود ہوں گے۔ واضح رہے کہ فراز طاہر کو قومی ہیرو کا درجہ دے دیا گیا ہے۔
فراز طاہر نے سڈنی کے بونڈی جنکشن شاپنگ مال میں جب ایک شخص کو خواتین پر حملہ کرتے دیکھا تو فوراً انہیں بچانے کے لیے لپکا۔ تب تک وہ شقی القلب حملہ آور پانچ خواتین کو ہلاکت خیز حد تک زخمی کرچکا تھا۔ اس کے حملوں میں مزید 12 افراد بھی زخمی ہوئے۔
تیزی سے کیے جانے والے حملوں کے دوران جوئیل کاچی نے فراز طاہر پر بھی کئی وار کیے جن کی تاب نہ لاتے ہوئے اُس نے دم توڑ دیا تاہم اُس کی مداخلت سے چند خواتین کی جان بچ گئی۔
فراز طاہر کی فیملی پاکستان سے سڈنی پہنچ چکی ہے۔ انہوں نے میموریل سروس سے ایک دن قبل فراز طاہر کی میت کا دیدار کیا اور اس کے لیے دعائیہ تقریب بھی منعقد کی۔
فراز کے بڑے بھائی مظفر طاہر نے کہا کہ ہم آسٹریلوی قوم کے بھی شکر گزار ہیں کہ اس نے ایک اجنبی کو قومی ہیرو کا درجہ دیا ہے۔ 25 اپریل کو فراز طاہر کی سالگرہ تھی۔
فراز طاہر کا ساتھی گارڈ محمد طٰحہ اسپتال میں زیرِ علاج ہے اور اب وہ تیزی سے صحت یاب ہو رہا ہے۔ آسٹریلوی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ محمد طحہ کو آسٹریلیا کی شہریت دینے پر غور کیا جارہا ہے اور اس بات کا واضح امکان ہے کہ اُسے شہریت دے دی جائے گی۔ محمد طٰحہ نے بھی حملہ آور کو دبوچنے کی کوشش کی تھی۔ اس کوشش میں وہ بھی بُری طرح زخمی ہوا۔
Trending
- غزہ میں فوجی کارروائیوں پر دستاویزی فلم کی اسرائیل میں پذیرائی، نیتن یاہو برہم
- کیتھولک عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پھیپھڑوں کے مرض میں مبتلا
- راولپنڈی، 12 سالہ بچی کو زیادتی کے بعد قتل کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
- پاکستان، سری لنکا کے درمیان تیسرا ٹی ٹوئنٹی آج کھیلا جائے گا
- سیف علی خان کی انسٹاگرام پر باضابطہ انٹری، پہلی پوسٹ میں کیا شیئر کیا؟
- حوثیوں کا ریاض ایئرپورٹ اور سعودی فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ
- گولڈ میڈلسٹ لائبہ کا آخری پیغام سامنے آگیا، افسوسناک انکشاف
- عطاء تارڑ سے قومی ون ڈے کپتان شاہین آفریدی کی ملاقات
- بپاشا باسو کی چھ سال بعد اسکرین پر واپسی، ہنسل مہتا کی ویب سیریز میں نظر آئیں گی
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔