پاکستان تحریک انصاف نے ہتک عزت قانون کیخلاف عدالت سے رجوع کرنے کا اعلان کر دیا۔
انسداد دہشتگردی عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ یہ کالا قانون بنایا جا رہا ہے، آئین کے مطابق کسی کی زبان بندی نہیں کی جا سکتی، ہم اس قانون کے خلاف قومی اور صوبائی اسمبلی میں مزاحمت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ جس نے ایوب خان کی مارشل لاء کی بات کی اس سے پوچھیں نواز شریف نے کیا کیا تھا۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بابر اعوان نے عدالت کو پورا قانون سمجھایا ہے، عدالت کا مشکور ہوں جنہوں نے انصاف کیا، میرے پاس اڑن چھو نہیں کہ ایک ہی دن سارے پاکستان میں گھوم لوں، یہ سارے جھوٹے مقدمات ہیں۔
دریں اثناء تحریک انصاف کے رہنما بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعلیٰ اور وزیرقانون توہین عدالت کر رہے ہیں، صحافیوں کو پکڑنے کیلئے جو قانون بنایا گیا وہ نہیں چلے گا، اس قانون کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف صحافیوں کے ساتھ کھڑی ہے، دبئی لیکس کیس کو فوری کھلنا چاہیے، عدلیہ کا کام لوگوں کے حقوق کی پاسداری کرنا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز پنجاب اسمبلی نے ہتک عزت بل 2024ء منظور کیا تھا، اپوزیشن نے بل کو کالا قانون قرار دیا اور احتجاج کرتے ہوئے بل کی کاپیاں پھاڑ دی تھیں، صحافیوں نے بھی پریس گیلری سے واک آؤٹ کیا تھا اور بل کے خلاف اسمبلی سیڑھیوں پر احتجاج کیا تھا جبکہ ملک گیر احتجاج کی کال بھی دی تھی۔
Trending
- مٹیاری، 2 برادریوں میں جھگڑا، خاتون سمیت 12 افراد زخمی ہوگئے
- یکم جون سے گرد آلود ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی! الرٹ جاری
- پہلا ون ڈے: پاکستان کا آسٹریلیا کیخلاف ٹاس جیت کر بولنگ کا فیصلہ
- کائلی جینر ذاتی طور پر ٹموتھی چالمیٹ کو کیا کہتے ہیں؟ دوست فلرٹی عرفی نام ظاہر کرتے ہیں۔
- اوکاڑہ: 3 ملزمان کی لڑکی کے ساتھ گن پوائنٹ پر نازیبا حرکات، اہلخانہ کو ہراساں بھی کیا
- پاکستان کا ون ڈے کرکٹ میں 1000 میچز کھیلنے کا سنگ میل عبور
- امریکہ اور ایران میں معاہدہ طے پا گیا، صدر ٹرمپ کے دستخط کا انتظار
- سر پال میک کارٹنی نے آخر کار اپنے پسندیدہ دی بیٹلس ممبر کا نام لیا۔
- وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شریف میڈیکل سٹی ہسپتال میں میجر سرجری
- سابق ملکہ حسن اور ماڈل اداکارہ کی پُراسرار موت؛ جج ساس گرفتار
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔