اسلام آباد(نیوزڈیسک)نگران دور حکومت میں اضافی گندم درآمد کرنے کے اسکینڈل میں ذمہ داروں کا تعین کرلیا گیا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے انکوائری کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے جس کی روشنی میں وفاقی وزارت نیشنل فوڈ سکیورٹی کے 4 افسروں کو معطل کرنے کی منظوری بھی دے دی گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق سابق وفاقی سیکرٹری نیشنل فوڈ سکیورٹی محمد آصف کے خلاف باضابطہ کارروائی کی منظوری دی گئی ہے جب کہ سابق ڈی جی پلانٹ پروٹیکشن اے ڈی عابد کو معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
فوڈ سکیورٹی کمشنر ون ڈاکٹر وسیم اور ڈائریکٹر سہیل کو بھی معطل کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ذمہ دار افسروں پر ناقص منصوبہ بندی اور غفلت برتنے کا چارج لگایا گیا ہے۔
خیال رہےکہ ایک ماہ سے زائد عرصے کی تحقیقات میں نگران دور حکومت کےکسی بھی ذمہ دار کو طلب ہی نہیں کیا گیا۔ نگران دور میں گندم درآمدکرنے کی اجازت کس نے دی؟مقدار کا تعین کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی ؟ نگران حکومت نے ضرورت سے زیادہ گندم درآمد کرنے کے بعد نئی منتخب حکومت کو اس سے متعلق آگاہ کیوں نہیں کیا ؟ ان سوالوں کا جواب نہیں مل سکا۔
واضح رہے کہ سرپلس گندم امپورٹ سے ملک میں گندم کی مارکیٹ کریش ہوئی جس سے کسانوں کو گندم سستے داموں فروخت کرنا پڑی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے فروری 2024 کے بعد گندم کی درآمد جاری رکھنے پر تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے گندم درآمد جاری رکھنے اور ایل سیز کھولنے کے ذمہ داروں کے تعین کی ہدایت کرتے ہوئے ایک ہفتے میں رپورٹ مانگی تھی مگر بعد میں کمیٹی کے ٹی او آرز میں اضافہ کردیاگیا تھا۔
Trending
- ایران سے پاکستان اربوں ایرانی ریال اسمگل کرنے کی بڑی کوشش ناکام
- بحری ناکہ بندی غیرقانونی، اشتعال انگیز غلطی ہے،ایرانی سفیر
- سوئیڈش ٹینس لیجنڈ بیورن بورگ اگلے ماہ پاکستان کا دورہ کریں گے
- کاروباری شخصیات کیلیے الگ پاسپورٹ سے متعلق بڑی خوشخبری
- امریکی انٹیلی جنس کا دعویٰ
- پنجاب حکومت نے کاشتکاروں کو خوشخبری سنادی
- بھارتی کم عمر کرکٹر ویبھو سوریا ونشی سچن ٹنڈولکر کا ریکارڈ توڑنے کے قریب
- پہلے خریدیں بعد میں پے کریں ، مشہور کمپنی علی بابا کا پاکستان کیلئے اہم اعلان ، لائسنس جاری ہو گیا
- مریم نواز کا کاشتکاروں کو 6 ارب کا باردانہ مفت دینے کا اعلان
- پاکستان میں ہمیشہ معیاری فاسٹ بولرز پیدا ہوئے: کورٹنی والش
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔