بیجنگ:چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ ننگ نے 26 جولائی کو بتایا کہ 28 جولائی سے یوریشین امور کے لیے چینی حکومت کے خصوصی نمائندے لی ہوئی یوکرین بحران پر شٹل ڈپلومیسی کے چوتھے دور کے لئے برازیل، جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا کا دورہ کر یں گے تا کہ موجودہ صورتحال اور امن مذاکرات کے عمل پر "گلوبل ساؤتھ” کے اہم ارکان کے ساتھ مزید خیالات کا تبادلہ کیا جاسکے، صورتحال کو بہتر کرنے کے طریقے تلاش کیے جاسکیں اور امن مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط اکٹھی کی جا سکیں۔
ماؤ ننگ نے کہا کہ یوکرین میں بحران میں بڑے پیمانے پر اضافے کو تقریبا ڈھائی سال ہو چکے ہیں، جنگ اب بھی جاری ہے، امن مذاکرات کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں، اور تنازعے کے مزید بڑھنے اور پھیلنے کا خطرہ ہے، جس پر عام طور پر بین الاقوامی برادری اور خاص طور پر "گلوبل ساؤتھ” کے ممالک کو تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مستقل رکن اور ایک ذمہ دار بڑے ملک کی حیثیت سے چین ہمیشہ بحران کے سیاسی حل کو فروغ دینے کے لئے پرعزم رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر شی جن پھنگ نے "چار نکات” پیش کیے، جس کی بنیاد پر چین اور برازیل نے مشترکہ طور پر "چھ نکاتی اتفاق رائے” جاری کیا، جس پر بین الاقوامی برادری نے وسیع پیمانے پر ردعمل دیا اور حمایت کی۔اسی تناظر میں چین اپنے خصوصی نمائندے لی ہوئی کو یوکرین بحران پر شٹل ڈپلومیسی کے چوتھے دور کے لئے بھیج رہا ہے تا کہ امن مذاکرات کی بحالی کے لیے شرائط اکٹھی کی جا سکیں ۔
Trending
- کراچی: بفرزون کے قریب شاپنگ سینٹر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- A big honor for Hania Aamir, her name included in Forbes Asia’s ’30 Under 30′ list
- کم پیٹراس نے چونکا دینے والے ‘ڈیٹنگ کے تجربات’ کے بارے میں بات کی۔
- خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
- مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
- فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا لاتعلقی کا اعلان
- کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے ٹیلر سوئفٹ سمیت بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیا
- جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندیاں تشکیل پانے لگیں
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔