اسلام آباد:وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ عمران خان کے دور حکومت میں ملکی وسائل کو لوٹا گیا، اب چند ماہ یا ایک سال میں ریکوری ممکن نہیں۔ اگر کسی کا خیال ہے کہ دوبارہ الیکشن ہوں گے تو اس طرح کے حالات نظر نہیں آرہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک آہستہ آہستہ بہتری کی طرف بڑھ رہا ہے، اس میں تو کوئی شک نہیں کہ بجٹ کے بعد مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت جو اقدامات اٹھا رہی ہے اس سے آنے والے مہینوں میں معیشت میں بہتری نظر آئے گی۔
خواجہ آصف نے کہاکہ تحریک انصاف دہشتگردوں اور طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھتی ہے، ان کی جانب سے فوج کی قیادت پر حملے کرنے کی ہرقسم کی کوشش کی جارہی ہے۔
وزیر دفاع نے کہاکہ بھوک ہڑتال کرنے والوں نے ڈراما لگا رکھا ہے، صبح پراٹھے کھا کر آجاتے ہیں، اور شام کو چلے جاتے ہیں، یہ نوسربازوں کا ٹولہ ہے۔
انہوں نے کہاکہ الیکشن کمیشن نے مخصوص نشستوں کے حوالے سے کام شروع کردیا ہے۔
خواجہ آصف نے کہاکہ ہر کوئی اپنے ذاتی مفاد اور مقاصد کی جنگ لڑرہا ہے۔ کچھ لوگ نئے نئے لیڈر بنے ہیں اور اپنی لیڈری کو سامنے لارہے ہیں۔
وزیر دفاع نے پی ٹی آئی پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ یہ کبھی امریکا کو گالی دیتے ہیں تو کبھی ان کے ترلے کرتے ہیں، یہ ایک سازش ہے کہ ملک کو مستحکم نہ ہونے دیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ دشمن ملک بھارت کو ہمارے خلاف کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں کیونکہ ہمارے اندر ہی ایسے لوگ موجود ہیں۔
خواجہ آصف نے سوال اٹھایا کہ بنوں میں جو کچھ ہوا، کیا ایسا کرنے لیے لوگ انڈیا سے آئے تھے؟ پاکستان ایٹمی قوت ہے اور ملک کا معاشی استحکام بہت سوں کو کھٹکھتا ہے۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔