اقوام متحدہ میں چین کے مستقل مشن کے ناظم الامور دائی بنگ نے سلامتی کونسل کے "امن کارروائیوں کے تیزی سے انخلا کے تناظر میں خواتین، امن اور سلامتی کو فروغ دینے” کے موضوع پر ایک خطاب کیا اور غزہ میں فوری جنگ بندی کے اپنے مطالبے کا اعادہ کیا۔
دائی بنگ نے کہا کہ اس وقت غزہ میں جاری تنازع کو 300 دن سے زائد ہو چکے ہیں۔اس دوران 10 ہزار سے زائد خواتین ہلاک ہوچکی ہیں اور دس لاکھ سے زائد فلسطینی خواتین اور لڑکیوں کو قحط کا سامنا ہے۔ چین ایک بار پھر تمام فریقین پر زور دیتا ہے کہ وہ بین الاقوامی برادری کے زبردست اتفاق رائے کی پیروی کریں اور سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل اور مؤثر طریقے سے عمل درآمد، فوری جنگ بندی کے حصول، انسانی تباہی کے خاتمے اور تنازعے کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے مل کر کام کریں۔
دائی بنگ نے نشاندہی کی کہ تنازعات کی روک تھام اور حل کے لئے ہر ممکن کوشش کرنا اور خواتین سمیت شہریوں کے لئے پرامن ماحول پیدا کرنا خواتین، امن اور سلامتی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لئے ایک اہم شرط ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن کو چاہیے کہ وہ اپنے اچھے دفاتر اور ثالثی کو مضبوط بنائے، علاقائی تنظیموں کے ساتھ ہم آہنگی قائم کرے ، تحفیف اسلحہ اور سماجی شمولیت اور مصالحت کو فروغ د ینے میں متعلقہ ممالک کی مدد کرے ۔ شہریوں کے تحفظ اور سماجی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لئے متعلقہ ممالک کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی استعداد کار بڑھانے میں مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔
Trending
- صدر ٹرمپ کی عمان کو دھمکی سے خود امریکی بھی حیران ہیں، سی این این
- کراچی: بفرزون کے قریب شاپنگ سینٹر میں لگی آگ پر قابو پا لیا گیا
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- پاکستان ٹیم آج 1 ہزار ون ڈے میچز کھیلنے والی دنیا کی تیسری ٹیم بن جائیگی
- A big honor for Hania Aamir, her name included in Forbes Asia’s ’30 Under 30′ list
- کم پیٹراس نے چونکا دینے والے ‘ڈیٹنگ کے تجربات’ کے بارے میں بات کی۔
- خانیوال میں مبینہ طور پر غیر فطری جنسی عمل کے نتیجے میں خاتون کی موت، شوہر گرفتار
- مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
- فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا لاتعلقی کا اعلان
- کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے ٹیلر سوئفٹ سمیت بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔