بیجنگ : انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق چین کی مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں روبوٹس کی ایپلی کیشن کی رفتار میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ چین میں صنعتی روبوٹس کی کثافت گزشتہ چار سالوں میں دگنی ہو چکی ہے، اور 2023 میں دنیا میں تیسرے نمبر پر آ گئی ہے۔ روبوٹکس کثافت سے مراد صنعتی روبوٹس کی تعداد اور ملازمین کی تعداد کا تناسب ہے ، جو مختلف ممالک میں مینوفیکچرنگ انڈسٹری میں آٹومیشن کی سطح کی تصدیق کرنے کے لئے ایک مؤثر اشارہ ہے۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف روبوٹکس کی جانب سے جاری کردہ 2024 کی ورلڈ روبوٹکس رپورٹ کے مطابق، 2023 میں عالمی اوسط روبوٹ کثافت ایک نئی بلند سطح پر پہنچ گئی ، جو فی 10ہزار ملازمین پر 162 روبوٹس تک جا پہنچی ،جو سات سال پہلے کے مقابلے میں دگنی ہے۔ اس اعتبار سے چین جرمنی اور جاپان کو پیچھے چھوڑ تے ہوئے دنیا کا تیسرا بڑا ملک بن گیا ہے۔
Trending
- لیاری میں موٹر سائیکل سوار ملزمان کا کریکر حملہ، دھماکے سے جماعت اسلامی کے 3 کارکن زخمی
- ٹرمپ کا ایران پر بڑا الزام،کہا پہلے گولی انہوں نے چلائی
- احتجاج تاحیات کے لیے نہیں ہوتے، آئیں بات کریں، بلاول بھٹو زرداری
- فیفا ورلڈکپ 2026 کا پہلا سیمی فائنل، اسپین نے فرانس پر برتری حاصل کرلی
- پنکی کو جیل میں ادویات اور کپڑے کیوں فراہم نہیں کیے جاتے؟عدالت کا استفسار،ویمن جیل سپرنٹنڈنٹ کے جواب پر درخواست نمٹا دی گئی
- مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، یورپی پروازوں کے لیے نیا الرٹ جاری
- سندھ میں 79 ایلوپیتھک، ہربل ادویات، سرنجز غیرمعیاری و جعلی قرار
- پہلا ٹی20، جنوبی افریقہ ویمن انڈر 19 نے پاکستان ویمن انڈر 19 کو ہرادیا
- دپیکا پڈوکون کے ماضی سے متلعق بڑا انکشاف؟ مزمل ابراہیم کے بیان نے ہلچل مچا دی
- مائیکل جانسٹن نے ‘جنون’ کے سیکوئل کی امیدوں پر ٹھنڈا پانی ڈال دیا۔