پشاور(نیوزڈیسک)پشاور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی، سینیٹر شبلی فراز اور اسپیکر صوبائی اسمبلی بابر سلیم سواتی کے مقدمات کی سماعتیں ہوئیں، جن میں عدالت نے تمام درخواست گزاروں کو حفاظتی ضمانتیں فراہم کردیں۔
تفصیلات کے مطابق بشریٰ بی بی کی جانب سے مقدمات کی تفصیلات اور حفاظتی ضمانت کی درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ بشریٰ بی بی اسلام آباد میں توشہ خانہ ٹو کیس کی پیشی کے لیے موجود ہیں۔
چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم نے استفسار کیا کہ کیا استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی ہے؟ وکیل کی تصدیق پر عدالت نے بشریٰ بی بی کو ایک ماہ کی حفاظتی ضمانت دیتے ہوئے ہدایت کی کہ وہ مقدمات کی تفصیلات کے لیے متعلقہ ہائیکورٹ سے رجوع کریں۔
سینیٹر شبلی فراز اور بابر سلیم سواتی کی حفاظتی ضمانت کے لیے درخواستوں پر چیف جسٹس اشتیاق ابراہیم اور جسٹس وقار احمد نے سماعت کی۔ عدالت نے دونوں کی حفاظتی ضمانتیں منظور کرلیں۔
ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ بابر سلیم سواتی کے خلاف اسلام آباد میں ایک مقدمہ درج ہے۔ عدالت نے ہدایت دی کہ کیسز کی تفصیلات دیگر ادارے بھی فراہم کریں۔
شبلی فراز کے حوالے سے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہیں متعدد مقدمات کے باعث مذاکراتی کمیٹی سے نکال دیا گیا تھا اور وہ مختلف عدالتوں میں پیشیاں بھگتتے رہے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ شبلی فراز ایک عوامی نمائندہ ہیں اور ان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ عدالت نے وفاقی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی۔
Trending
- چین نے نائب وزیر خارجہ کو اچانک عہدے سے برطرف کردیا
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- پاکستان کی صرافہ مارکیٹوں میں سونا پھر مہنگا
- مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ ریکارڈ
- عازمین حج کے لیے خوشخبری؛ حکومت نے بڑی سہولت فراہم کردی
- مذہبی تہواروں کا احترام بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کا باعث ہے: وزیراعظم شہبازشریف
- زمبابوے کے بلیسنگ مزارابانی پر پی ایس ایل میں شرکت پر 2 سال کی پابندی عائد
- پنجاب کے مختلف شہروں سے خودکش بمبار سمیت 16 دہشت گرد گرفتار
- فاطمہ ثناء کی چئیرمین پی سی بی سے لیگ شروع کرنے کی درخواست
- کراچی:حب ریور روڈ پر مزدا کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار جاں بحق
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔