امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یکم تاریخ کو ایک ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کیے ہیں، جس کے تحت چین سے درآمد ہونے والے سامان پر 10 فیصد اضافی ٹیکس عائد کیا گیا ہے۔ امریکہ کے اس تازہ ترین تجارتی تحفظ پسند اقدام کی بین الاقوامی سطح پر اور امریکہ کے اندر بھی وسیع پیمانے پر مخالفت کی گئی ہے۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ چین نے بارہا اپنا موقف واضح کیا ہے اور ہمیشہ یہ سمجھتا ہے کہ تجارتی جنگ اور ٹیکس جنگ میں کوئی فاتح نہیں ہوتا۔ چین ہمیشہ اپنے قومی مفادات کے تحفظ پر قائم رہا ہے۔ چینی وزارت تجارت کے ترجمان بھی پہلے واضح کر چکے ہیں کہ چین کا ٹیکس کے معاملے پر موقف مستقل ہے۔ ٹیکس کے اقدامات نہ صرف چین اور امریکہ دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے بھی نقصان دہ ہیں۔
ایگزیکٹو آرڈر کے مطابق، امریکہ میکسیکو اور کینیڈا سے درآمد ہونے والے سامان پر بھی 25 فیصد اضافی ٹیکس عائد کرے گا، اور یہ ٹیکس عارضی طور پر چار تاریخ سے نافذ ہوگا۔ وائٹ ہاؤس کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ کے ٹیکس کے جواب میں انتقامی کارروائی کی گئی تو امریکہ ٹیکس کی شرح میں اضافہ کر سکتا ہے۔ ٹرمپ نے 31 جنوری کو صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یونین نے امریکی گاڑیوں اور زرعی مصنوعات کو درآمد کرنے سے انکار کر دیا ہے، لہٰذا مساوی بنیادوں پر ان پر ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ نے یورپی یونین پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے ابھی کوئی ٹائم ٹیبل طے نہیں کیا ہے۔
Trending
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔