by Rao Imran Suleman
Rao Nama

حماس کی جانب سے غزہ جنگ بندی کی امریکی تجویز کا جواب ،اسرائیل کا کارروائی جاری رکھنے کا اعلان

0

امریکہ کی جانب سے پیش کی گئی جنگ بندی کی نئی تجویز پر فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے اپنی ترمیمی شرائط پیش کیں۔ امریکی خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطی وائٹ کوف نے 31 مئی کو کہا کہ حماس کا جواب "بالکل ناقابل قبول” ہے اور اس سے امن عمل کو پیچھے دھکیل دیا گیا ہے۔ حماس کے اعلیٰ عہدیدار باسم نعیم نے اس حوالے سے کہا کہ امریکی ایلچی ایک بالکل نئی تجویز لے کر آئے ہیں جو پہلے طے شدہ معاہدے سے کوئی تعلق نہیں رکھتی۔

حماس نے 60 روزہ عارضی جنگ بندی کے تحت 10 اسرائیلی قیدیوں کی رہائی اور 18 ہلاک شدہ افراد کی لاشوں کی واپسی کی پیشکش کی ہے، جس کے بدلے وہ اسرائیل سے تقریباً 1200 فلسطینی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ تاہم، حماس اس شرط پر بھی اصرار کر رہی ہے کہ اسرائیلی فوج غزہ سے مکمل طور پر انخلا کرے اور مستقل جنگ بندی کا معاہدہ طے کیا جائے۔ اسرائیلی حکومت پہلے ہی ایسی شرائط کو مسترد کر چکی ہے۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے 31 مئی کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے امریکی ایلچی کی تازہ ترین تجویز کو قبول کر لیا ہے، لیکن حماس نے اسے مسترد کر دیا ہے۔ وائٹ کوف کے الفاظ میں، حماس کا ردعمل ناقابل قبول ہے اور اس نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا ہے۔ اسرائیل اپنی کارروائی جاری رکھے گا تاکہ قیدیوں کو واپس لایا جا سکے اور حماس کو مکمل شکست دی جا سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.