یکم جولائی کو چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان ماؤ نینگ نے یومیہ پریس کانفرنس میں تھائی لینڈ کی آئینی عدالت کی جانب سے تھائی وزیر اعظم پیٹونٹن شیناوترا کی معطلی کے فیصلے پر کہا کہ چین تھائی لینڈ کے داخلی معاملات پر تبصرہ نہیں کرتا۔ ایک دوست اور ہمسایہ کی حیثیت سے، ہم امید کرتے ہیں کہ تھائی لینڈ داخلی استحکام اور ترقی کو برقرار رکھے گا.
اسی روز تھائی لینڈ کی آئینی عدالت نے وزیر اعظم پیٹونٹن کے خلاف مواخذے کی درخواست منظور کرتے ہوئے انہیں وزیر اعظم کے عہدے سے معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالتی بیان کے مطابق عدالت کے 9 ججوں نے 9 کے مقابلے میں 0 ووٹ سے درخواست منظور کی اور 7 کے مقابلے میں 2 ووٹ سے پیٹونٹن کو وزیراعظم کے فرائض سے معطل کرنے کا فیصلہ سنایا۔ پیٹونٹن نے آئینی عدالت کے فیصلے کو قبول کیا اور کہا کہ وہ 15 دن کے اندر اپنے دفاع کے لئے عدالت میں متعلقہ مواد پیش کریں گی۔ پیٹونٹن کی معطلی کے بعد تھائی لینڈ کے نائب وزیر اعظم اور وزیر ٹرانسپورٹ سوریا جوانگرونگ نے نگران حکومت کے وزیراعظم کا عہدہ سنبھالا۔یاد رہے کہ 20 جون کو تھائی پارلیمنٹ کے ایوان بالا کے اسپیکر نے تھائی لینڈ کی آئینی عدالت میں وزیر اعظم پیٹونٹن کے مواخذے کے لیے ایک درخواست جمع کرائی تھی، جس میں کہا گیا تھا کہ کمبوڈیا کے سینیٹ کے صدر ہن سین کے ساتھ پیٹونٹن کی ٹیلیفونک گفتگو کے موضوعات غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہیں۔
Trending
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ
- میر رضا کیس: کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر کمیشن چلائیں گے، وزیر اعلیٰ بھی ملنے آئے تو نہیں ملیں گے، جسٹس عمر سیال
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔