چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلپائن کی جانب سے “بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس” کے فیصلے کے 9 سال مکمل ہونے پر جاری بیان پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کی ’’بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس‘‘ پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، اور یہ “فیصلہ” ایک غیر قانونی، بے اثر اور محض ردی کا ٹکڑا ہے۔ چین اس نام نہاد فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا عمل کو مانتا ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ، اول، “بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تیسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرتا ہے۔ چین متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ غیرقانونی فیصلے کے اس کاغذی ٹکڑے کو بار بار موضوع بحث نہ بنائیں، اور نہ ہی اسے بہانہ بنا کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کریں۔ ایسی حرکات کا نتیجہ محض نقصان اُٹھانا” اور “اپنے ہاتھوں اپنی تباہی” ہوگا۔
Trending
- تمام نجی و سرکاری تعلیمی ادارے آج کھلیں گے
- نیتا امبانی کے ساتھ رنویر سنگھ کے گربا کی دھوم، ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل
- پولیس کی 8 پی ٹی آئی رہنماؤں کو حفاظتی تحویل میں رکھنے کی تصدیق
- سندھ پبلک سروس کمیشن میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات شروع
- ملک میں کہاں کہاں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کر دی
- انگلینڈ کرکٹ ٹیم 16 اکتوبر کو اسلام آباد پہنچے گی
- راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا سپریم کورٹ کی جانب مارچ، چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ
- اپوزیشن کی مشترکہ پارلیمانی پارٹی کا اجلاس آج ہوگا
- ترکیہ سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ، صدر اردوان کا دوٹوک اعلان
- جمادی الاول کا چاند نظر آگیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔