چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلپائن کی جانب سے “بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس” کے فیصلے کے 9 سال مکمل ہونے پر جاری بیان پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کی ’’بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس‘‘ پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، اور یہ “فیصلہ” ایک غیر قانونی، بے اثر اور محض ردی کا ٹکڑا ہے۔ چین اس نام نہاد فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا عمل کو مانتا ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ، اول، “بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تیسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرتا ہے۔ چین متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ غیرقانونی فیصلے کے اس کاغذی ٹکڑے کو بار بار موضوع بحث نہ بنائیں، اور نہ ہی اسے بہانہ بنا کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کریں۔ ایسی حرکات کا نتیجہ محض نقصان اُٹھانا” اور “اپنے ہاتھوں اپنی تباہی” ہوگا۔
Trending
- کراچی میں جینا کسی امتحان سے کم نہیں اداکارہ عائشہ عمر
- بحرین میں چوتھی بار فضائی خطرے کے سائرن۔ عوام کو الرٹ رہنے کی ہدایت
- لاہور، نیوزاینکر ریحان طارق کو چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا
- نامناسب تبصرے پر زرین خان کا فوٹوگرافر کو دوٹوک جواب، ویڈیو وائرل
- سندھ میں 79 ادویات اور سرنجز کے نمونے غیر معیاری اور جعلی قرار
- ویزا ختم ہونے پر سعودی عرب نہ چھوڑنے والوں کے لیے سخت سزاؤں کا اعلان
- آزاد کشمیر میں صورتحال بہتر ہوئی تو انتخابات کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظرثانی کریں گے: بیرسٹر گوہر
- سینیگا فٹبال کا اسپورٹس میڈیسن ڈاکٹر کی بجائے ماہر امراض نسواں دیے جانے کا الزام
- ٹیلر سوئفٹ اور ٹریوس کیلسی کی فیملی میں نئے مہمان کی آمد؟ مداح خوشی سے نہال
- کیوں مارگریٹ کوالی اور جیک اینٹونوف اپنی شادی کو آخری نہیں بنا سکے۔
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔