چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے فلپائن کی جانب سے "بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس” کے فیصلے کے 9 سال مکمل ہونے پر جاری بیان پر تبصرہ کیا۔ ترجمان نے کہا کہ چین کی ’’بحیرہ جنوبی چین ثالثی کیس‘‘ پر پوزیشن مستقل اور واضح ہے، اور یہ "فیصلہ” ایک غیر قانونی، بے اثر اور محض ردی کا ٹکڑا ہے۔ چین اس نام نہاد فیصلے کو نہ تو قبول کرتا ہے نہ ہی تسلیم کرتا ہے، اور نہ ہی اس پر مبنی کسی بھی دعوے یا عمل کو مانتا ہے۔
چین کا ماننا ہے کہ، اول، "بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ دوسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” اقوام متحدہ کے سمندری قانون کے کنونشن کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ تیسرا، ” بحیرہ جنوبی چین کا ثالثی کیس” بحیرہ جنوبی چین کے بنیادی حقائق کو یکسر نظرا نداز کرتا ہے۔ چین متعلقہ ممالک کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ غیرقانونی فیصلے کے اس کاغذی ٹکڑے کو بار بار موضوع بحث نہ بنائیں، اور نہ ہی اسے بہانہ بنا کر چین کے حقوق کی خلاف ورزی اور اشتعال انگیزی کریں۔ ایسی حرکات کا نتیجہ محض نقصان اُٹھانا” اور "اپنے ہاتھوں اپنی تباہی” ہوگا۔
Trending
- مامیا شاہ جعفر نے خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کا انکشاف کردیا
- فتنہ الہندوستان کی دہشت گرد شہناز بلوچ سے اہلِ خانہ کا لاتعلقی کا اعلان
- کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے ٹیلر سوئفٹ سمیت بڑے ستاروں کو پیچھے چھوڑ دیا
- جنوبی ایشیا میں نئی سفارتی صف بندیاں تشکیل پانے لگیں
- سرگودھا: نہروں، دریاؤں میں نہانے پر پابندی کی خلاف ورزی، 59 افراد گرفتار
- کرن جوہر نے شاہ رخ خان سمیت کئی اہم شخصیات کو ’ان فالو‘ کیوں کیا؟
- DUI کی گرفتاری کے بعد برٹنی سپیئرز کی زندگی کیسے بدل گئی
- جان ٹراولٹا نے بیٹی ایلا کو ‘پروپیلر ون وے نائٹ کوچ’ میں متعارف کرایا
- سرگودھا: گھریلو ناچاقی سے تنگ خاتون نے خودکشی کر لی، والد کا سسرالیوں پر تشدد کا الزام
- ایشیاء انڈر 18 ہاکی کپ، پاکستان نے پہلے میچ میں چین کو ہرا دیا
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔