by Rao Imran Suleman
Rao Nama

پنڈی، اسلام آباد میں 230ملی میٹر بارش ،ندی نالے بپھر گئے، گاڑیاں بہہ گئیں، انخلا کا حکم

0

راولپنڈی اور اسلام آباد میں کل رات سے ہونے والی موسلا دھار بارش نے جل تھل ایک کر دیا، نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے الارم بجا دیئے گئے ہیں اور قریبی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔
جڑواں شہروں میں کل رات سے اب تک 230 ملی میٹر سےزائد بارش ریکارڈ کی جا چکی ہے جس کے باعث راولپنڈی اسلام آباد میں نشیبی علاقے زیر آب آ گئے ہیں، راولپنڈی کے علاقے ڈھوک کھبہ میں پانی جمع ہونے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔
راولپنڈی اسلام آباد میں نالوں کے بھرنے کے سبب متعدد راستوں پر ٹریفک کو مشکلات کا سامنا ہے، بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح کٹاریاں کے مقام پر 20 فٹ اور گوالمنڈی پل پر 19 فٹ ہو گئی جبکہ دریائے سواں میں بھی پانی کی سطح بلند ہونے سے پل زیر آب آ گیا۔

نالہ لئی کے اطراف میں خطرے کے سائرن بج گئے
نالہ لئی کے اطراف میں خطرے کے سائرن بجا دیئے گئے جبکہ ریسکیو ، واسا، سول ڈیفنس سمیت تمام اداروں کو ہائی الرٹ کردیا گیا ہے۔

ریسکیو حکام کا کہنا ہے کہ نالہ لئی، کٹاریاں اور گوالمنڈی میں انخلا کی وارننگ جاری کر دی گئی ہیں، پانی کی سطح بلند ہونے سے قریبی آبادی کو خطرہ ہے، شہری احتیاطاً محفوظ مقامات پر منتقل ہوجائیں۔

پنجاب میں شدید بارش کے باعث ریسکیو کا عمل جاری

سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کیلئے فوج سے مدد طلب
ترجمان نے بتایا ہے کہ ایم ڈی واسا نے ٹرپل ون بریگیڈ سے بھی رابطہ کیا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں پاک فوج کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، شہریوں کو غیر ضروری سفر سے بھی گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔

ادھر جہلم میں رات سے جاری بارش کے باعث ندی نالوں میں طغیانی آ گئی ہے، ضلعی انتظامیہ نے سیلاب میں پھنسے افراد کو ریسکیو کرنے کے لیے فوج سے مدد طلب ک رلی ہے۔

راولپنڈی میں ایک روز کی چھٹی کا اعلان

موسمیاتی حالات کے پیش نظر ضلع راولپنڈی میں ایک دن کی چھٹی کا اعلان کر دیا گیا ہے، ڈپٹی کمشنر راولپنڈی نے چھٹی کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا جس میں عوام سے اپیل کی گئی ہے گھروں میں رہیں اور غیر ضروری گھروں سے نہ نکلیں۔

محکمہ موسمیات کی مزید بارشوں کی پیشگوئی
آزاد کشمیر کی وادی نیلم میں بھی رات گئے سے موسلادھار بارش کا سلسلہ جاری ہے، شدید بارش کے باعث دریائے نیلم اور ندی نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو گیا ہے جبکہ محکمہ موسمیات نے مزید بارشوں کا امکان ظاہر کیا ہے۔

جہلم، چکوال میں بارشوں سے تباہی، شہریوں کی نقل مکانی، سیلابی ایمرجنسی نافذ
مون سون کی طوفانی بارش نے جہلم اور چکوال میں تباہی مچا دی، درجنوں دیہات زیر آب گئے، ریلے میں پھنسے 40 افراد کو ہیلی کاپٹر سے ریسکیو کر لیا گیا، شدید بارشوں کے باعث سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

 

چکوال میں موسلادھار بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور پانی اہم سرکاری عمارتوں اور گھروں میں داخل ہو گیا، مکان کی چھت گرنے سے بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ چکوال کے علاقے چوآسیدن شاہ میں تاریخی کٹاس راج مندر پانی میں ڈوب گیا۔

کلاؤڈ برسٹ، 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ

ڈپٹی کمشنر چکوال کے مطابق واسا اور ریسکیو سمیت تمام متعلقہ اداروں کے افسران کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ہسپتالوں میں کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چکوال میں ریکارڈ بارش کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہوئی، چکوال میں 423 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے، کلر کہار، وہالی زیر میں 325 اور چو آسیدن شاہ میں 310 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔

چکوال کے نواحی علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گر نے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہو گیا، واقعہ میں جاں بحق شخص کی اہلیہ اور ایک بیٹی زخمی ہے۔

پنجاب میں مون سون سے 103 شہری جاں بحق، 393 زخمی

پی ڈی ایم اے کے مطابق رواں سال مون سون بارشوں کے باعث پنجاب میں 103 شہری جاں بحق اور 393 زخمی ہوئے، مون سون بارشوں کے باعث 128 مکانات متاثر اور 6 مویشی ہلاک ہوئے۔

ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں مون سون بارشوں کے باعث 63 شہری جاں بحق اور 290 زخمی ہوئے، 24 گھنٹوں میں لاہور میں 15، فیصل آباد 9، ساہیوال 5، پاکپتن 3 اور اوکاڑہ میں 9 اموات رپورٹ کی گئیں۔

جہلم، چکوال: بارش سے تباہی، شہریوں کی نقل مکانی، سیلابی ایمرجنسی نافذ
اسلام آباد: مون سون کی طوفانی بارش نے جہلم اور چکوال میں تباہی مچا دی، درجنوں دیہات زیر آب گئے، سیلابی پانی میں پھنسے افراد کو نکالنے کے لیے بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا، شدید بارشوں کے باعث سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ چکوال میں سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے جس میں فوج سمیت تمام انتظامیہ حصہ لے رہی ہے، شہریوں کے باحفاظت انخلا تک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔

جہلم کے ڈھوک بدر میں پھنسنے والے 40 افراد کو ریسکیو کر لیا گیا، ان میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، رجروڑ نکہ خاص میں بھی درجنوں لوگ پھنسے ہوئے ہیں، نالہ پنہاں بپھر چکا ہے، شہری نقل مکانی کر رہے ہیں۔

چکوال میں موسلادھار بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے زیر آب آگئے اور پانی اہم سرکاری عمارتوں اور گھروں میں داخل ہو گیا، مکان کی چھت گرنے سے بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہو گئے جس کے باعث شہر میں سیلابی ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

چکوال کے علاقے چوآسیدن شاہ میں تاریخی کٹاس راج مندر پانی میں ڈوب گیا۔

ڈپٹی کمشنر چکوال کے مطابق واسا اور ریسکیو سمیت تمام متعلقہ اداروں کے افسران کو فیلڈ میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے، ہسپتالوں میں کسی بھی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے انتظامات مکمل کر لیے گئے۔

ضلعی انتظامیہ کے مطابق چکوال میں ریکارڈ بارش کلاؤڈ برسٹ کے باعث ہوئی، چکوال میں 423 ملی میٹر بارش ہوئی، کلر کہار، وہالی زیر میں 325 اور چو آسیدن شاہ میں 310 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی۔

چکوال کے نواحی علاقے کھیوال میں مکان کی چھت گر نے سے ایک شخص اور ایک بچہ جاں بحق ہوگیا، واقعہ میں جاں بحق شخص کی اہلیہ اور ایک بیٹی زخمی ہے۔

ضلعی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر ضرورت پڑنے پر پاک فوج کی بھی مدد لی جائے گی۔
پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے ملک بھر میں حالیہ بارش کا ریکارڈ جاری کر دیا جس کے مطابق سب سے زیادہ بارش چکوال میں ریکارڈ کی گئی۔

ریسکیو کرنے کے لیے پاک فوج کا پیلی کاپٹر اور انتظامیہ کے افسران موقع پر موجود ہیں۔ تمام افراد کو ائیر ایمبولینس کے زریعے محفوظ مقام پر منتقل کیا جارہا ہے۔

اب تک 10 افراد کو بچا لیا گیا ہے۔ متاثرین کو لائف جیکٹس اور فوری امداد فراہم کی جاری ہے ۔ مقامی انتظامیہ اور فوج مشترکہ طور پر صورت حال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ نشیبی علاقوں کے رہائشیوں کو ہوشیار رہنے اور ہدایات پر عمل کی اپیل کی گئی ہے۔

ڈپٹی کمشنر جہلم کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز نالے کے قریب مکینوں کو بتادیا تھا کہ محفوظ مقام پر منتقل ہوں۔

دوسری جانب دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر شدید سیلاب کا خدشہ ہے، پاکستان میٹرولوجیکل ڈیپارٹمنٹ نے ہائی الرٹ جاری کردیا۔ اعلامیے کے مطابق دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر 3 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک سیلابی ریلے کی آمد متوقع ہے۔

چکوال میں 400 ملی میٹرسےزائد بارش
پی ڈی ایم اے حکام کے مطابق چکوال میں 400ملی میٹرسےزائد بارش ہوچکی ہے، گذشتہ 24 گھنٹوں کےدوران چکوال میں ریکارڈ بارش کے باعث سیلابی صورتحال ہے۔ سیلابی پانی میں پھنسے شہریوں کونکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

حکام کے مطابق پاک فوج کے ہیلی کاپٹرسمیت تمام ذرائع سے ریسکیو آپریشن جاری ہے، شہریوں کے باحفاظت انخلاتک ریسکیو آپریشن جاری رہے گا۔
راولپنڈی میں بارش کے بعد سیلابی صورتحال ، وزیر اعظم نے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا
راولپنڈی میں بارش کے بعد سیلابی صورتحال کے پیش نظر وزیراعظم شہباز شریف نے ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد میں کل رات سے ہونے والی موسلا دھار بارش کے باعث نالہ لئی میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث خطرے کے الارم بجا دیے گئے ہیں اور قریبی آبادی کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی گئی ہے۔

جڑواں شہروں کے کچھ علاقوں میں کل رات سے اب تک 230 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی جا چکی جس کے باعث راولپنڈی اسلام آباد میں نشیبی علاقے زیرآب آ گئے ہیں اور لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے چیف کمشنر راولپنڈی، ایم ڈی واسا سے فوری رپورٹ طلب کر لی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں بارشوں سے ہونے والے نقصانات اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جائے گا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.