اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے کہا کہ تنازع جاری رہنے کی وجہ سے غزہ کی پٹی میں نقل مکانی میں اضافہ ہوا ہے، بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچا ہے اور بڑی تعداد میں شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ چونکہ فضائی حملے جاری ہیں، مقامی باشندے خوراک اور پینے کے پانی کی تلاش جیسی روزمرہ کی بنیادی ضروریات کو بھی پورا کرنے کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ غزہ کی پٹی میں انسانی امداد کے داخلے کے باوجود ان کی مقدار کم سے کم طلب سے بھی کم ہے اور امدادی مشنوں کیلئے بار بار تاخیر اور رکاوٹیں حائل ہو رہی ہیں۔اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور کا کہنا تھا کہ اس سے بھی زیادہ سنگین بات یہ ہے کہ لینڈنگ پوائنٹس میں غلطی کے باعث فضا سے گرائے جانے والے سازو سامان کی وجہ سے شہری ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ یوں اب غزہ کے لوگوں کو بھوک، طبی نظام کی تباہی اور جاری رہنے والی جنگ کا بیک وقت سامنا کرنا پڑ ا اور شہری زندگیاں انتہائی مشکلات کا شکار ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ انسانی امور نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سڑکوں کی نقل و حمل اس وقت امداد کا سب سے مؤثر ذریعہ ہے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لئے تمام چینلز کھولنے کا مطالبہ کیا گیا کہ رسد انتہائی کمزور افراد تک محفوظ اور باوقار طریقے سے پہنچائی جائے۔ اقوام متحدہ نے غزہ کی پٹی میں مستقل جنگ بندی اور امداد کی فراہمی کی فوری ضرورت کا اعادہ کیا ہے اور تمام قیدیوں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا ہے۔
Trending
- پاور ڈویژن کا پیک آورز میں روزانہ سوا 2 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کا اعلان، بجلی مہنگی ہونے کا بھی امکان
- وائرل بھارتی کامیڈین سمے رائنا کی دولت کتنی ہے؟ حیران کن انکشاف
- امریکا کا کتائب حزب اللہ کے سربراہ کی گرفتاری پر 10ملین ڈالر انعام کا اعلان
- خیبر پختونخوا، سرکاری ملازمین کی غیر ملکی سے شادی، پیشگی اجازت لازمی قرار
- سر سید یونیورسٹی کے سمیر حسین قومی جونیئر ہاکی ٹیم کے کوچ مقرر
- راجپال یادیو نے شاہ رخ خان کے ساتھ فلم ’اوم شانتی اوم‘ میں کام کیوں نہیں کیا؟
- بچے سے زیادتی کے مجرم کو 14سال قید بامشقت، 10 لاکھ جرمانہ عائد
- حیدرآباد کنگزمین کے کھلاڑیوں، سپورٹ اسٹاف کا ایس ایس یو ہیڈ کوارٹر کا دورہ
- اداکارہ تریشا کرشنن کے گھر کو بم سے اڑانے کی دھمکی
- دکاندار ایل پی جی کی من مانی قیمتیں وصول کرنے لگے
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔