روسی صدر کے معاون اوشاکوف نے کہا کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے اسی دن روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو ٹیلی فون پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی اور یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات سے آگاہ کیا۔ ٹیلیفونک بات چیت میں دونوں رہنماؤں نے روس اور یوکرین کے وفود کے درمیان براہ راست مذاکرات کرنے کی حمایت کا اظہار کیا۔ڈونلڈ ٹرمپ نے 18 تاریخ کو وائٹ ہاؤس میں دورے پر آئے ہوئے یورپی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتیں کیں اور امریکی معاونت کیساتھ یورپی ممالک کی جانب سے پیش کیے گئے” یوکرین سیکیورٹی پلان پر غور کیا ۔تمام فریقین نے روس اور یوکرین کے درمیان امن کے حصول کے امکانات کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ اس بنیاد پر سہ فریقی اجلاس منعقد کرنے کا منصوبہ ہے اور اس میں پیوٹن، زیلنسکی اور وہ خود شریک ہوں گے۔ ایک باخبر شخص نے بتایا کہ ٹرمپ کو امید ہے کہ یہ ملاقات اگست کے آخر سے پہلے ہوگی۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور یوکرین کے درمیان ہونے والی یہ ملاقات سب سے کامیاب ثابت ہوئی۔ یوکرین اب فائر بندی کی شرط پر مذاکرات کرنے پر اصرار نہیں کرتا۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سیکورٹی گارنٹی کا حصول ہی کلید ہے اور اس سے متعلقہ تفصیلات 10 دنوں کے اندر تیار کی جائیں گی۔ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ وہ یوکرین کی سیکورٹی گارنٹی میں حصہ لے گا۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ زمین کے مسئلے پر صرف پیوٹن کے ساتھ ان کی ملاقات کے دوران ہی بات چیت کی جاسکتی ہے۔
Trending
- کراچی:حب ریور روڈ پر مزدا کی ٹکر سے موٹرسائیکل سوار جاں بحق
- گاڑیوں کے سائیڈ شیشے چوری کرنے والا خاندانی گروہ گرفتار
- ایران نے فٹبال ٹیم کی کپتان کے منجمند اثاثے بحال کر دیے
- ٹریلر کی موٹر سائیکل کو ٹکر، 3 افراد جاں بحق
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
راؤ عمران سلیمان پاکستان کے مایہ ناز صحافی ہیں جو اعلیٰ صحافتی اقدار پر یقین رکھتے ہیں۔