by Rao Imran Suleman
Rao Nama

چینی طرز کی جدید کاری شی زانگ کی ترقی کی بنیادی محرک قوت ہے ، سی جی ٹی این سروے

0

شی زانگ خود اختیار علاقے کے قیام کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر سی جی ٹی این نے دنیا بھر کے 38 ممالک کے 6747 جواب دہندگان پر مشتمل ایک سروے جاری کیا، جس کے مطابق جواب دہندگان نے شی زانگ کی معاشی اور سماجی ترقی میں ہونے والی ہمہ جہت ترقی ، تاریخی کامیابیوں اور شی زانگ کی جمہوری اصلاحات میں کی گئی تاریخی تبدیلیوں کی تعریف کی۔ سروے کے مطابق لوگوں کا عام خیال ہے کہ چینی طرز کی جدیدکاری شی زانگ کی ترقی کے لئے بنیادی محرک قوت ہے۔
سروے میں، جواب دہندگان نے شی زانگ کی اقتصادی اور سماجی ترقی کی اہم کامیابیوں کا مثبت جائزہ لیا، جن میں پہلے کے پانچ شعبہ جات میں "طبی معیار میں مسلسل بہتری” (83.8 فیصد )، "لوگوں کے لیے تعلیم کے حق کی ضمانت ” (83.8 فیصد )، "ماحولیاتی تحفظ اور حکمرانی میں قابل ذکر نتائج” (83 فیصد )، "لوگوں کی متوقع عمر میں اضافہ ، اور لوگوں کی بقا اور ترقی کے حق کی مکمل ضمانت ” (82.5 فیصد ) اور "بنیادی ڈھانچے کی تعمیر میں بہتری ” (81.9 فیصد ) شامل ہیں ۔
سروے کے نتائج میں 74.8 فیصد جواب دہندگان کا ماننا ہے کہ شی زانگ کی اقتصادی اور سماجی ترقی کو چینی طرز کی جدیدکاری سے فائدہ ہوا ہے۔ 75.8 فیصد افراد نے مذہبی مقامات اور سہولیات کو جدید بنانے میں شی زانگ کی کامیابیوں کی تعریف کی۔ 83.5 فیصد نے شی زانگ کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی کامیابیوں کو مثبت کہا ، اور 84.6 فیصد جواب دہندگان نے شی زانگ کے عوامی ثقافتی بنیادی ڈھانچے میں مسلسل بہتری کی تصدیق کی۔
اس سروے میں 63.8 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ شی زانگ قدیم زمانے سے چین کے علاقے کا اٹوٹ حصہ رہا ہے۔ 74.5 فیصد افراد نے شی زانگ کی مستقبل کی ترقی کے بارے میں اعتماد کا اظہار کیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.