by Rao Imran Suleman
Rao Nama

چہار عکس: ایک تبصرہ (عکسِ اوّل)

0

تحریر: سمیع الرحمان

 

زیرِ نظر کتاب پر پہلے ہی اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے کہ اس میں اضافہ کرنے کی گنجائش نہیں ۔ بہرحال اگر پہلے سے کیے گئے تبصروں سے ہٹ کرکچھ ممکن ہو تو اور بات ہے۔ ورنہ پہلے سے درج کردہ چیزوں کو دُہرانے کا کوئی فائدہ نہیں۔چونکہ کام کی کتاب ہے ، اس لیے دو چار الفاظ لکھنا بھی کافی نہیں۔ یہ ایک طرح سے اس کے ساتھ زیادتی ہو گی۔ بہتر ہے کہ کتا ب کے چہار حصّوں پر الگ الگ تبصرہ کیا جائے۔ اس سے دُہرانے کا ڈَر بھی جاتا رَہے اور سیر حاصل تجزیہ بھی ممکن ہو ۔

کتاب کوئی تین ہفتے قبل مجھے موصول ہو ئی۔ میری خوش قسمتی کہ پہلے ہی دِن اس کا آرڈر صاحبِ تصنیف، برادر فضل اللہ فانی ،کو دے دیاتھا۔ کتاب کی اشاعت کا علم فیس بُک پر اُن ہی کی ایک پوسٹ کے ذریعے ہوا۔ ایک ہفتہ کتاب آنے میں لگا۔ کہ ایک مذہبی جماعت کی کال پر احتجاج کے باعث حالات خراب تھےاور مملکتِ خداداد اُس وقت تاریخ کے نازک موڑ پہ کھڑا تھا ۔

خیر، کرتے کرتے کتاب آ گئی۔ طباعت دیکھی تو نہا یت نفیس۔ سرِورق دیدہ زیب۔کاغذ اعلیٰ معیار کا۔تصدیق کے لیے وزن چیک کر سکتے ہیں۔ وزن ،کوئی ایک کلو۔کالا جیکٹ پہنے ہوئے ۔ شاید پتہ تھا سردیاں آنے والی ہیں۔صفحات ۴۲۴۔ جو اچھا ہے۔ ۴ عدد کم ہوتے تو لوگ بدگمانی کرتے۔ آخری ۴ صفحات بھی شامل کردیں (جو صفحہ نمبر سے عاری ہیں)تو تعداد اور بڑھ جائے۔ یہ آخری ۴ اوراق نہایت قیمتی ، کہ مشہورِ عالم خوش نویس جمیل حسن لاہوری کے کمالِ فن سے مزّین ہیں اور ہر ورق کتاب میں شامل ۴ شعراء کے ۲،۲ اشعار پر مبنی ہے۔
جیکٹ کی پشت پر احمد جاوید صاحب کی عالمانہ تحریر کا ایک پیرا بطورِ تعارف دیا ہوا ۔ پوری تحریر آپ اندر کے صفحات میں ملاحظہ کر سکتے ہیں۔فنِ ترجمہ و فاضل مترجم پر احمد جاوید کی تحریر شاید کتاب کا سب سے بڑا حوالہ ہے۔ کہ بقولِ رومی ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ یا پھر زَر زَرگر کی کسوٹی پر پورا اُترے تو سب کے ہاں اصل تصوّر کیاجائے۔ پیش لفظ میں فاضل مترجم نے فنِ ترجمہ پر مختصراً لکھا ہے ۔ اختصار کے باوجود یہ ایک جامع مطمحِ نظر ہے۔

کتاب میں میرے کام کی صرف دو ہی چیز یں نکلیں۔ ایک وہ جو مترجم نے اپنے ہاتھ سے خوبصورت لکھائی میں لکھی ہے ۔ دوم ، کتاب کا متن۔ یہ دو چیزیں اگر کتاب کی قیمت میں شامل کر دیں تو اس کا مول کئی چند بڑھ جائے۔ بلکہ انمول ہو جائے۔ مترجم کی لکھائی آپ کتاب کی دی گئی تصویر کے پہلو میں دیکھ سکتے ہیں۔ متن کی طرف آتے ہیں۔

عکسِ اوّل یا حصّہ اوّل صائب تبریزی کے منتخب اشعار کا منظوم اردو ترجمہ ہے۔ جیسا کہ نام سے ظاہر ہے ، ایرانی شہر تبریز میں پیدا ہوئے۔ سن ولادت ۱۵۹۲ ہے۔ عام شعراء کے برعکس متمول گھرانے میں آنکھ کھولی اور بظاہر پوری عمر وبالِ روزگار سے فارغ البال رَہے۔ کائنات اور وجود کے مسائل شاید آڑے آئے اور یوں دقیق فلسفیانہ خیالات کی جانب راغب ہوئے۔ شاعری کو ذریعہ اظہار اپنایا۔ سفرِہندوستان بھی کیا۔ چند سال شاہجہاں کے دور ِ زرّیں میں گزارے۔ واپس اصفہان گئے۔ صفوی حکمران عباس دوم نے ملک الشعراء کا خطاب دیا۔ ۱۶۷۶ میں وفات پائی۔ سبکِ ہندی ، جو فنِ شاعری میں بال کی کھال اُتارنے کا دوسرا نام ہے ،کے بانیوں میں شمار ہوتے ہیں اور اسی سبک میں خوب نام کمایا۔
شاید یہ بتانا مَیں بھول گیا کہ چہار عکس دراصل سبکِ ہندی کے چار عظیم فارسی شعراء ،صائب، غنی، بیدل اور غالب، کے منتخب اشعار کا منظوم ارود ترجمہ ہے۔ کلاسیکل نثر کا ترجمہ بچوں کا کھیل نہیں۔ کلاسیکل شاعری تو پھردور کی بات ۔ جہاں تک سبکِ ہندی کا تعلق ہے تو اس کا نثری ترجمہ بھی جوئے شیر لانے سے کم نہیں، چہ جائیکہ منظوم ۔ یوں اس کتاب کی علمی و ادبی افادیت نہایت بڑھ جاتی ہے۔
ایک اور شے جو اس ترجمہ کو امتیازی حیثیت دیتا ہے وہ خود مترجم کا لسانی پس منظر ہے۔ جی ہاں، نہ تو اردو مترجم کی مادری زبان ہے اور نہ ہی فارسی ۔ اس سے زیادہ اچھنبے کی بات یہ کہ آپ پٹھان ہیں اور روایتی کالج ، یونیورسٹی کی پڑھائی کی بجائے دینی مدارس سے فارغ التحصیل ہیں۔ اعلیٰ معیار کے شعری مجموعوں کو عموماً اعجاز کا نام دیا جاتا ہے۔ یہی امتیاز اس مجموعے کو بھی دیا جا سکتا ہے ۔ کہ ترجمہ سے زیادہ تخلیق محسوس ہو ۔
صائب کے ایک شعر کا ترجمہ یوں کیا ہے:
حسنِ وافر کے لیے حیرت سے بڑھ کر دا د کیا
سننے والا سمجھے، ہے کافی یہی تحسین مجھے
تشریح میں لکھا ہے: ـ’’جو حسن حد سے بڑھا ہوا ہو، اس کے شایانِ شان داد و تحسیں یہی ہے کہ دیکھنے والا اسے دیکھ کر حیران رہ جائےاور کچھ نہ بول سکے، اس طرح اگر میرے شعر کو سُن کر کوئی داد نہیں دے رہا تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ میرے شعر کے محاسن نے اسے مبہوت کر دیا ہے اور وہ کچھ بول نہیں پا رہا۔‘‘
یہ حقیقت اس ترجمہ پر بھی صادق آتی ہے۔ ۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس کی پذیرائی میں بہت ساروں نے بہت کچھ بول دیا ہے۔
قناعت صائب کے تخیّل اور مترجم کی خوبیِ فن کے تناظر میں ملاحظہ ہو:
نانِ جو کھا، اور خُلدِ جاوداں میں رہ سدا
کھانے سے گندم کے، جنت سے ہوئے آدم جدا
صبر و قناعت پہ ہی ، جو مشرقی صوفیاء کا مرغوب مضمون ہے ، ایک اور شعر کاترجمہ:
رزقِ تلخ و شور پر صائب قناعت کیجیے
قند میں مل کر پستہ لبِ خنداں سے دُور
اس شعر کوہر وہ شخص بآسانی سمجھ سکتا ہے جس نے شور یا نمکین پستہ چھلکے سے الگ کر کے کھایا ہو۔اور ظاہر ہے ہر ایک نے کھایا ہو گا۔ پستہ کے چھلکے کو اگر دیکھا جائے تویوں لگے گویا مسکراہٹ میں لب کھولے ہوں اور خنداں ہو۔ جب چھلکا اُتارکر یہ قند ، مٹھائی کی نذر ہو جائے یعنی قناعت چھوڑ کر عیش و عشرت میں پڑ جائے ،تو سمجھیں اس کی ہنسی گئی۔ یہی اس شعر کا سیدھا سادہ مضموں و مفہوم ہے۔
یا پھر عشق میں سوز و گداز کا یہ نادر احساس:
نقش، صائب! جب کہ پانی پر ٹہر سکتا نہیں
صورت اُس کی کیسے ہر دم میری چشمِ تَر میں ہے
اسی طرح شوخی کی یہ ایک انمول مثال:
پاکیٔ دامن کی اُمیدیں جوانوں سے نہ رکھ
پانی دریاؤں کا ساوَن میں کہاں ہوتا ہے صاف
یا پھر آتشِ بے دُود کی توصیف میں مبالغہ کی یہ صورت :
خضر کے ہاتھ سے لو جام احتیاط کے ساتھ
بجائے مے نہ کہیں دے وہ تم کو آبِ حیات

کتاب سے اسی مانند اور بھی کئی مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن ظاہر ہے یہ محض ایک تبصرہ ہے۔ پوری طرح اس سے محظوظ ہونے کے لیے آپ کو چند پیسے خرچ کرنا ہوں گے۔ پستہ بادام پہ یوں بھی ہم ہزاروں لٹاتے رہتے ہیں۔ زندگی کے ان تلخ و شیریں دونوں تجربات کو نئے پہلوؤں سے دیکھنے کا اس میں وسیع موادموجود ہے۔ کتاب کی قیمت بھی اس کے متن و معیار دونوں اعتبار سے معقول ہے اور یقین کریں یہ آپ کو مایوس نہیں کرے گی۔ شرط صرف ذوق ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.