کالم نگار: ابنِ امام
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں واقع گریٹ ہال آف دی پیپل سے ایک ایسا اسٹریٹیجک اعلان سامنے آیا ہے جسے عالمی سیاست میں ایک نئے دور کے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ طویل عرصے سے جغرافیائی سیاسی ماہرین جس تبدیلی کی پیش گوئی کر رہے تھے، اب وہ عملی شکل اختیار کرتی محسوس ہو رہی ہے۔
روس کے صدر ولادیمیر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ نے ایک طویل اور حساس ملاقاتوں کے سلسلے کے بعد مشترکہ اعلامیے اور متعدد دفاعی و معاشی معاہدوں پر دستخط کیے۔ اس اعلامیے کو دنیا میں ایک “متبادل عالمی نظام” یا “کثیر القطبی عالمی نظام” کی بنیاد قرار دیا جا رہا ہے۔
اس پورے پس منظر میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی حالیہ فوجی کارروائیوں کو ایک اہم موڑ کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اس مؤقف کے مطابق مغربی طاقتیں اپنے تزویراتی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں، اور اسی ناکامی نے عالمی طاقت کے توازن کو مغرب سے مشرق کی جانب منتقل کرنے کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
گزشتہ کئی برسوں سے دنیا معاشی اعتبار سے ایک تبدیلی دیکھ رہی تھی؛ پیداوار، ٹیکنالوجی اور صنعتی سرگرمیوں کا مرکز مغرب سے ایشیا منتقل ہو رہا تھا۔ اب اس تجزیے کے مطابق عسکری اور سفارتی سطح پر بھی یہی تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
روس اور چین کے رہنماؤں نے اپنے مشترکہ اعلامیے میں واضح کیا کہ دنیا کو اب کسی ایک طاقت کی اجارہ داری کے تحت نہیں چلایا جا سکتا۔ انہوں نے “جنگل کے قانون” کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی تعلقات میں تمام ممالک کو مساوی حیثیت حاصل ہونی چاہیے۔ اعلامیے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کوئی بھی ریاست خود کو برتر طاقت سمجھ کر دیگر ممالک پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔
دونوں ممالک نے مغربی دنیا، خصوصاً امریکہ، پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کو بعض اوقات سیاسی دباؤ اور دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں مداخلت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق یہ رویہ عالمی امن کے لیے خطرناک ہے۔
اعلامیے میں شام کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کی گئی، جبکہ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کو “غیر قانونی” قرار دیا گیا۔ روس اور چین نے خبردار کیا کہ کسی بھی خودمختار ریاست کو فوجی طاقت کے ذریعے دبانے کی کوششیں عالمی استحکام کے لیے خطرناک ہیں۔
ایشیا بحرالکاہل کے خطے کے حوالے سے بھی دونوں ممالک نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ جاپان کی تیز رفتار عسکری تیاریوں اور نیٹو کی ایشیا میں بڑھتی ہوئی موجودگی کو خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ اسی طرح شمالی کوریا پر یکطرفہ دباؤ اور پابندیوںکی مخالفت کی گئی۔

ٹیکنالوجی کے میدان میں روس اور چین نے اپنے سیٹلائٹ رہنمائی نظاموں روس کے “گلوناس” اور چین کے “بے دو” کو ایک دوسرے کے ساتھ مربوط کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مغربی جی پی ایس نظام پر انحصار کم کیا جا سکے۔ اس پیش رفت کو مستقبل کے عسکری اور معاشی توازن میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
دونوں ممالک نے جوہری توانائی، خاص طور پر حرارتی جوہری انضمام اور جدید جوہری ری ایکٹر ٹیکنالوجی میں تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق کیا۔ اگر یہ تعاون عملی کامیابی حاصل کرتا ہے تو مستقبل کی توانائی کی دنیا میں ایک بڑی تبدیلی آ سکتی ہے۔
معاشی میدان میں سب سے اہم پیش رفت “ڈی ڈالرائزیشن” یعنی عالمی تجارت میں امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی کوشش ہے۔ صدر ولادیمیر پوتن نے اعلان کیا کہ روس اور چین کے درمیان ہونے والی تجارت اب بڑی حد تک روبل اور یوآن میں ہو رہی ہے۔ اس اقدام کو امریکی معاشی دباؤ اور پابندیوں کے متبادل نظام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

روس نے چین کو تیل اور گیس کی مسلسل فراہمی جاری رکھنے کا عزم دہرایا، جبکہ “پاور آف سائبیریا 2” گیس پائپ لائن منصوبے پر پیش رفت کو دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات کا اہم ستون قرار دیا گیا۔ اسی طرح قطب شمالی کے تجارتی راستوں اور متبادل نقل و حمل کے نظام پر بھی تعاون زیر غور ہے تاکہ مغربی سمندری دباؤ سے بچا جا سکے۔
بیجنگ ملاقات کا ایک اہم سفارتی پہلو یہ بھی تھا کہ صدر شی جن پنگ نے ولادیمیر پوتن کو اپنا “پرانا اور دیرینہ دوست” قرار دیا، جبکہ پوتن نے چینی کہاوت کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو غیر معمولی قرار دیا۔ دونوں رہنماؤں نے واضح کیا کہ ان کا اتحاد کسی تیسرے ملک کے خلاف نہیں بلکہ ایک“زیادہ منصفانہ عالمی نظام” کے قیام کے لیے ہے۔

برکس کے تناظر میں بھی اس اتحاد کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ روس اور چین کی کوشش ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ایک ایسے بلاک میں منظم کیا جائے جو مغربی مالیاتی اور سیاسی دباؤ سے آزاد ہو۔
اس تمام پیش رفت کے بعد عالمی مبصرین کے نزدیک دنیا ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جہاں طاقت کا توازن یک قطبی کے بجائے کثیر القطبی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ بیجنگ سے جاری ہونے والا یہ اعلامیہ اسی ممکنہ عالمی تبدیلی کا ایک واضح اشارہ سمجھا جا رہا ہے۔