by Rao Imran Suleman
Rao Nama

رومانیہ کے یومِ قومی اور پاک۔رومانیہ تعلقات کے 61 سال مکمل ہونے پر سفیرِ رومانیہ کا خصوصی خطاب

0

 
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ یومِ قومی رومانیہ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے رومانیہ کے سفیر ڈاکٹرDAN STOENESCUنے کہا کہ یکم دسمبر 1918 کی تاریخی ’’گریٹ یونین‘‘ ہمارے قومی اتحاد، آزادی اور جدید ریاست کی بنیاد کا دن ہے۔ یہ دن نہ صرف قومی یکجہتی کی علامت ہے بلکہ ان اقدار کی تجدید کا موقع بھی ہے جن پر ہماری ریاست کھڑی ہے ،آزادی، سلامتی اور خوشحالی۔پاک۔رومانیہ تعلقات کے 61 سال: دوستی، احترام اور تعاون کا سفرسفیر نے بتایا کہ رواں سال پاکستان اور رومانیہ کے مابین سفارتی تعلقات کے 61 برس مکمل ہو رہے ہیں


چھ دہائیوں پر محیط دوستی، باہمی احترام اور مستحکم تعاون کی شاندار تاریخ

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاسی، اقتصادی، ثقافتی اور تعلیمی شعبوں میں تعاون مسلسل وسعت اختیار کر رہا ہے۔گزشتہ برس کے اہم اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے بتایا کہ پشاور میں رومانیہ کا اعزازی قونصلیٹ کھول دیا گیا ہے، جبکہ کراچی اور لاہور میں بھی نئے قونصلیٹس کے قیام کی تیاریاں جاری ہیں۔
پاکستان کے مختلف شہروں کراچی، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، راولپنڈی اور پشاور کے دوروں نے تجارتی و کاروباری تعاون کے نئے دروازے کھولے۔دونوں ممالک کے مابین پہلی مرتبہ رومانیہ۔پاکستان آئی ٹی فورم کا انعقاد کیا گیا، جس میں 100 سے زائد کمپنیوں نے شرکت کی۔

دفاعی اور تعلیمی تعاون میں پیش رفت

سفیر نے بتایا کہ گزشتہ برس دفاعی شعبے میں بھی دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوئے، اور اعلیٰ سطحی عسکری تبادلوں نے باہمی اعتماد کو مزید گہرا کیا۔تعلیمی شعبے میں بھی نمایاں تعاون سامنے آیا۔
رومانیہ کی جامعات کا NUST، GIFT اور NUTECH سے اشتراک وسیع ہو رہا ہے۔ رواں سال نمل یونیورسٹی میں رومانیہ زبان کا پہلا لیکچرریٹ قائم کیا گیا، جہاں نئی رومنینی لیکچرر ڈاکٹر اوانا اُرساشے نے ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔

ثقافت، عوامی روابط اور میڈیا تعاون کا فروغ

گزشتہ ماہ پاکستان میں رومانیہ کلچرل ڈیز کے پہلے ایڈیشن کا انعقاد ہوا، جس میں فلموں، آرٹ نمائشوں اور موسیقی کے ذریعے رومانیہ کی ثقافتی وراثت کو پاکستان میں متعارف کرایا گیا۔
سفیر کے مطابق عوامی سطح پر بڑھتے ہوئے روابط دونوں ملکوں کی دوستی کو نئی جہتیں دے رہے ہیں۔
یورپی سیکورٹی صورتحال اور رومانیہ کا مؤقف
سفیر نے اپنے خطاب میں مشرقی یورپ کی موجودہ صورتِ حال کا خصوصی حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین پر ڈرون حملوں نے خطے میں عدمِ استحکام کو جنم دیا ہے، جبکہ ان حملوں کے اثرات رومانیہ کی سرحدوں کے قریب بھی محسوس کیے گئے۔انہوں نے بتایا کہ نیٹو اور یورپی یونین کی نئی اقدامات بشمول ایسٹرن سینٹری اور ایسٹرن فلینک واچ— مشرقی یورپی خطے کی سلامتی مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔
رومانیہ بطور نیٹو اتحادی ملک اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہا ہے اور یوکرین کی مستقل امن و سلامتی کے لیے حمایت جاری رکھے گا۔
سفیر نے کہا کہ رومانیہ، یورپی یونین، نیٹو اور امریکہ کے ساتھ مضبوط شراکت داری کے تحت علاقائی و عالمی امن کے لیے کردار ادا کرتا رہے گا۔

مالدووا کی حمایت

رومانیہ نے واضح کیا کہ جمہوریہ مالدووا یورپی خاندان کا حصہ ہے اور رومانیہ اس کی یورپی یونین میں شمولیت کے عمل کی مکمل حمایت کرتا رہے گا۔
اختتامی پیغام
تقریب کے اختتام پر سفیر نے کہا کہ آج ہم یومِ قومی رومانیہ اور پاکستان کے ساتھ 61 سالہ مضبوط تعلقات کا جشن منا رہے ہیں۔ ثقافت، تجارت، تعلیم اور سلامتی کے شعبوں میں ہماری شراکت داری پہلے سے زیادہ مضبوط ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم ایک روشن مستقبل کی جانب مل کر بڑھیں گے۔ رومانیہ پاکستان دوستی زندہ باد!‘‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.