روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 13 دسمبر 1937 کو نانجنگ قتل عام نے نانجنگ شہر کے لاکھوں عام شہریوں سے زندگی چھین لی تھی۔ یہ واقعہ جاپانی فوج کی درندگی اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ایک علامت ہے۔ماریہ زخارووا نے زور دیتے ہوئے کہا کہ نانجنگ قتل عام کے تاریخی حقائق پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی۔فار ایسٹ انٹرنیشنل ملٹری ٹربیونل نے قانونی طریقہ کار سے اس کا پتہ لگایا اور اپنے فیصلے میں تصدیق کی۔ یہ فیصلہ نیورمبرگ ٹرائل کے فیصلے کے ساتھ مل کر دوسری جنگ عظیم کے بعد بین الاقوامی نظم و نسق اور موجودہ بین الاقوامی نظام کی ایک بنیاد بنا۔ اس فیصلے پر سوال اٹھانے، نازی ازم اور فوجی ازم کے بارے میں غلط بیانی کرنے، دوسری جنگ عظیم کے نتائج کو مسخ کرنے اور ارتکاب کردہ جرائم کو کم کرنے کی کسی بھی کوشش کی بین الاقومی برادری کو مذمت کرنی چاہیے۔
Trending
- پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے بھر میں بارشوں اور چند مقامات پر ژالہ باری کا الرٹ جاری کردیا
- وزیراعظم سے کینیڈین ہم منصب کا رابطہ، جنگ بندی کی پاکستانی کوششوں کی پذیرائی
- شادی کی عمر اٹھارہ سال ہونا لازم قرار ،نکاح خواہ کو کم از کم ایک سال قید ،ایک لاکھ جرمانہ ہوگا
- رجب بٹ نئی مشکل میں پھنس گئے، خاتون سے زیادتی کیس میں فرد جرم کی تاریخ مقرر
- 400 کلو چاندی کہاں گئی؟ پاکستان کسٹمز کے 2 اہلکار گرفتار
- رنویر الہ آبادیا کا سمے رائنا کے طنز پر ردعمل وائرل
- سرکاری سکولوں میں 17لاکھ طلبا کے ب فارم نمبر غلط یا غائب ہونے کا انکشاف
- کرینہ کپور کے ایئرپورٹ تنازع نے سوشل میڈیا پر ہلچل مچا دی
- منطقی طور پر اس وقت امریکا اکیلے پن کا شکار ہے، دفاعی تجزیہ کار
- آشا بھوسلے کی آخری رسومات میں کون سی اہم شخصیات نے شرکت کی؟