by Rao Imran Suleman
Rao Nama

چین میں سٹرس فروٹ کی فارمنگ  میں جدت اور کامیابیاں

0

 

اعتصام الحق

 

دنیا بھر میں سٹرس فروٹ (سنگترہ، مالٹا، کینو، گریپ فروٹ وغیرہ) کی پیداوار اور تجارت زرعی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے، اور اس شعبے میں چین سب سے نمایاں مقام رکھتا ہے۔ چین اس وقت دنیا کا سب سے بڑا سٹرس فروٹ پیدا کرنے والا ملک ہے جہاں سالانہ پیداوار 65 ملین ٹن سے تجاوز کر چکی ہے، جو عالمی پیداوار کا تقریباً ایک تہائی بنتی ہے۔ اس کے برعکس بڑی برآمد کنندہ ریاستوں میں اسپین، ترکی، جنوبی افریقہ اور مصر شامل ہیں، کیونکہ یہ ممالک اپنی پیداوار کا بڑا حصہ بیرونِ ملک بھیجتے ہیں، جبکہ چین کی زیادہ تر پیداوار داخلی کھپت میں استعمال ہوتی ہے۔ دنیا میں سٹرس فروٹ کی سالانہ تجارت کا حجم تقریباً 15 سے 20 ملین ٹن کے درمیان ہے، جس کی مالی قدر درجنوں ارب ڈالر تک پہنچتی ہے۔ بڑے درآمد کنندگان میں روس، جرمنی، فرانس، مشرقِ وسطیٰ کے ممالک اور جنوبی ایشیا شامل ہیں، جہاں مقامی پیداوار طلب پوری نہیں کر پاتی۔

 

چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ کے فوچینگ جیسے پہاڑی دیہی علاقوں میں سمارٹ فارمنگ نے اس صنعت کو نئی شکل دی ہے۔ یہاں ہزاروں ہیکٹر پر پھیلے باغات 1960 کی دہائی سے مقامی آبادی کی معیشت کا ستون رہے ہیں، مگر مشکل جغرافیہ نقل و حمل میں رکاوٹ بنتا تھا۔ ماضی میں ایک مزدور کو پھل سے بھری ٹوکری پہاڑی سے نیچے لانے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا تھا، جبکہ اب ڈرون 500 میٹر بلند ڈھلوانوں سے یہی کام صرف دو منٹ میں انجام دیتے ہیں اور لاگت تقریباً آدھا امریکی سینٹ فی کلوگرام رہ گئی ہے۔ اس کے بعد خودکار کنویئر سسٹم پھلوں کو دھونے، چھانٹنے اور ویکس کرنے کا عمل مکمل کرتا ہے جبکہ پری کولڈ کنٹینرز صفر ڈگری سیلسیس پر انہیں عالمی معیار کے مطابق محفوظ رکھتے ہیں۔ اس مربوط کولڈ چین کی بدولت تازہ توڑا گیا پھل ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں برآمد کے لیے تیار ہو جاتا ہے، جو خراب ہونے والی زرعی اجناس کے لیے انتہائی اہم ہے۔

 

برآمدی لحاظ سے چین کی سٹرس صنعت تیزی سے پھیل رہی ہے۔ ایک مقامی کمپنی کے مطابق گزشتہ سال صرف ایک علاقے سے تقریباً 400 کنٹینرز جنوب مشرقی ایشیا، وسطی ایشیا اور مشرقی یورپ کو بھیجے گئے، جبکہ اس سال بھارت اور بنگلہ دیش جیسی بڑی منڈیوں تک رسائی کے باعث کم از کم 10 فیصد اضافے کی توقع ہے۔ عالمی سطح پر دیکھا جائے تو سٹرس فروٹ کی تجارت موسمی فرق، معیار، قیمت اور جغرافیائی قربت جیسے عوامل سے متاثر ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر یورپی ممالک سردیوں میں بحیرۂ روم کے خطے سے درآمدات بڑھاتے ہیں، جبکہ روس اور وسطی ایشیا کے ممالک ترکی اور مصر پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اسی طرح ایشیائی منڈیوں میں چین، پاکستان اور جنوب مشرقی ایشیا کے درمیان علاقائی تجارت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔

 

مجموعی طور پر سمارٹ سسٹمز، تیز رفتار لاجسٹکس، کولڈ چین نیٹ ورک اور عالمی منڈیوں تک براہِ راست رسائی نے سٹرس فروٹ کی صنعت کو روایتی زراعت سے جدید زرعی تجارت میں تبدیل کر دیا ہے۔ چونگ چنگ کے پہاڑی باغات سے لے کر یورپ اور ایشیا کی سپر مارکیٹوں تک یہ سفر اس بات کی واضح مثال ہے کہ ٹیکنالوجی نہ صرف پیداوار بڑھاتی ہے بلکہ دیہی معیشت، عالمی تجارت اور غذائی رسد کے نظام کو بھی نئی سمت دیتی ہے۔

چین کے شہر جیاموسی  میں جدید  زرعی مشینری  کی   تیاری اور استعمال

Leave A Reply

Your email address will not be published.