سی پیک کے تحت 25.93ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، 2 لاکھ 61 ہزار نوکریاں
لاہور( پی این پی)پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال مکمل ہونے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری نے نمایاں ثمرات دئیے ہیں۔
چینی سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ ایک فیکٹ شیٹ کے مطابق، چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، بڑے پیمانے پر انفراسٹرکچر کی ترقی اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا ہوئے ہیں جبکہ گوادر علاقائی روابط کا ایک مرکزی مرکز بن کر ابھرا ہے۔فیکٹ شیٹ کے مطابق سی پیک جو بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کا اہم حصہ ہے کے تحت 25.93 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی گئی اور 2 لاکھ 61 ہزار سے زائد ملازمتیں پیدا ہوئیں۔ اس منصوبے کے تحت 8 ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا، جبکہ 510 کلومیٹر سے زائد سڑکوں اور 886 کلومیٹر طویل ٹرانسمیشن لائنز کی تعمیر مکمل کی گئی۔گوادر میں متعدد منصوبوں پر کام جاری ہے جن کا مقصد اس ساحلی شہر کو علاقائی تجارتی مرکز میں تبدیل کرنا ہے۔ ان منصوبوں میں گوادر پورٹ کی توسیع شامل ہے، جہاں گہرے پانی کی بندرگاہیں بڑے کارگو جہازوں اور آئل ٹینکرز کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ جسے جدید ترین سہولتوں سے آراستہ قرار دیا جا رہا ہے دنیا کے بڑے طیاروں کو سنبھالنے کی صلاحیت رکھے گا۔ سماجی شعبے میں بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں، جن میں چین پاکستان دوستی ہسپتال شامل ہے جہاں 3 لاکھ 50 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج کیا جا چکا ہے۔ اس کے علاوہ سمندری پانی کو قابل استعمال بنانے کے پلانٹ سے روزانہ تقریباً 3 ہزار ٹن میٹھا پانی فراہم کیا جا رہا ہے، جبکہ 10 ہزار سے زائد گھروں کو سولر پینلز فراہم کیے گئے ہیں۔تعلیم اور فنی تربیت کے شعبے میں بھی پیشرفت ہوئی ہے۔
گوادر میں قائم چین کے تعاون سے ٹیکنیکل اور ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ ہر سال ہزاروں افراد کو تربیت فراہم کر رہا ہے، جبکہ اسکولوں کی اپ گریڈیشن کے ذریعے تعلیمی سہولتوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ملک بھر میں سی پیک کے منصوبے توانائی، ٹرانسپورٹ اور صنعت کے شعبوں پر محیط ہیں۔ پنجاب میں ساہیوال کول پاور پلانٹ 1320 میگاواٹ، کروٹ ہائیڈرو پاور پلانٹ 720 میگاواٹ اور لاہور اورنج لائن میٹرو جیسے منصوبوں نے توانائی کی فراہمی اور شہری نقل و حرکت کو بہتر بنایا ہے۔ سندھ میں نیوکلیئر اور ہوا سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا، جبکہ سکھر،ملتان موٹروے جیسے منصوبوں نے سفر کے دورانیے کو کم کیا۔خیبر پختونخوا ہ میں سوکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبہ 884 میگاواٹ صاف توانائی پیدا کر رہا ہے جس سے سالانہ 12.8 لاکھ ٹن کوئلے کی بچت اور 32 لاکھ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں کمی متوقع ہے۔صنعتی تعاون میں بھی اضافہ ہو رہا ہے، پنجاب میں ہائیر-روبا اسپیشل اکنامک زون اور ٹیکسٹائل منصوبوں سے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہونے اور برآمدات میں اضافے کی توقع ہے۔دوطرفہ تجارت بھی مستحکم رہی، چین مسلسل 12ویں سال پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار رہا جبکہ 2025 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارت کا حجم 25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا،مالی سال 2025-26 کے پہلے آٹھ ماہ میں مجموعی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا 53.2 فیصد حصہ چین سے آیا۔
فیکٹ شیٹ میں زراعت، خلائی ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو بھی اجاگر کیا گیا۔ سی پیک کنسورشیم آف یونیورسٹیز کے تحت 130 تعلیمی ادارے شامل ہیں۔ چینی تعاون سے پاکستانی سیٹلائٹس لانچ کیے گئے جبکہ ہزاروں پاکستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو چین میں تربیت دی گئی۔ثقافتی اور میڈیا تعاون میں بھی اضافہ ہوا ہے، گزشتہ تین برسوں کے دوران دونوں ممالک کے میڈیا اداروں کے درمیان 12 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔چین نے مشکل وقت میں پاکستان کی مدد بھی جاری رکھی۔ 2025 کے سیلاب کے دوران چین نے 20 لاکھ ڈالر نقد اور 100 ملین آر ایم بی امداد فراہم کی، اسی سال چینی ڈاکٹروں نے آٹھ پاکستانی بچوں کے دل کے پیدائشی امراض کا علاج کیا، 2024 سے 2025 کے دوران بلوچستان میں 70 ہزار ہیلتھ کٹس تقسیم کی گئیں جن سے 23 اضلاع کے 766 سکولوں کو فائدہ پہنچا، 2022 کے سیلاب کے بعد بھی چین نے 100 ملین آر ایم بی کی ہنگامی امداد، 25 ہزار خیمے اور مزید 300 ملین آر ایم بی کی امدادی اشیا فراہم کیں۔
PNP
Comments are closed.