by Rao Imran Suleman
Rao Nama

چابہار دھماکے ناکارہ گولہ بارود تلف کرنے کی کارروائی قرار

ایران کے جنوب مشرقی بندرگاہی شہر چابہار میں اتوار کے روز زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف قیاس آرائیاں گردش کرنے لگیں۔ تاہم ایرانی سرکاری میڈیا نے واضح کیا ہے کہ دھماکے کسی حملے یا تخریب کاری کا نتیجہ نہیں تھے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق دھماکوں کی وجہ حالیہ جھڑپوں کے دوران استعمال ہونے والے ناکارہ اور نہ پھٹنے والے گولہ بارود کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کی کارروائی تھی۔ ابتدائی طور پر دھماکوں کی نوعیت واضح نہ ہونے کے باعث عوامی سطح پر تشویش پائی گئی، لیکن بعد ازاں حکام نے صورتحال کی وضاحت کردی۔
چابہار ایران کا ایک اہم اسٹریٹجک پورٹ سٹی ہے، جو آبنائے ہرمز کے قریب واقع ہونے کے باعث تجارتی اور دفاعی لحاظ سے خاص اہمیت رکھتا ہے۔
دوسری جانب قطر کے ساحلی علاقے کے قریب ایک تجارتی بحری جہاز پر ڈرون یا میزائل حملے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملے کے بعد جہاز میں آگ لگ گئی تھی۔
برطانیہ کے بحری تجارتی آپریشنز ادارے نے بھی ایک بڑے تجارتی جہاز کو نشانہ بنائے جانے کی تصدیق کی ہے۔
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ نشانہ بننے والا بحری جہاز امریکی ملکیت کا تھا اور امریکی پرچم تلے سفر کر رہا تھا۔
ادھر قطری وزارتِ دفاع کے مطابق اتوار کی صبح قطر کی سمندری حدود میں موجود ایک تجارتی کارگو جہاز پر ڈرون حملہ ہوا۔ وزارت کے بیان کے مطابق جہاز ابو ظبی سے روانہ ہوا تھا کہ راستے میں اس میں آگ بھڑک اٹھی، تاہم آگ پر بروقت قابو پالیا گیا۔
قطری حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کے بعد تمام ضروری حفاظتی اقدامات کیے گئے اور جہاز نے دوبارہ اپنا سفر شروع کرتے ہوئے میسعید پورٹ کی جانب روانگی جاری رکھی۔ حکام کے مطابق واقعے میں کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

PNP

Comments are closed.