منشیات فروش خاتون کے مقدمے میں پولیس کی مبینہ غفلت سامنے آگئی
منشیات فروش ملزمہ انمول عرف پنکی کے خلاف درج مقدمے میں پولیس کی مبینہ غفلت سامنے آگئی۔
ملزمہ کے خلاف درج مقدمے میں بتایا گیا کہ انمول عرف پنکی کو گارڈن میں رہائشی عمارت کے فلیٹ سے گرفتار کیا گیا۔ لیکن فلیٹ میں رہائش پذیر خاندان نے موقف اختیار کیا کہ انمول عرف پنکی کو ہم نہیں جانتے ہیں۔
متاثرہ خاندان کا کہنا تھا کہ جس فلیٹ کا پتہ مقدمے میں ڈالا گیا، وہاں 8 سال سے کرائے پر ہم رہائش پذیر ہیں۔
متاثرہ خاندان نے کہا کہ میڈیا پر ملزمہ کی گرفتاری ہمارے فلیٹ سے ہونے کی خبر آنے پر مالک مکان نے فلیٹ خالی کرنے کا کہہ دیا۔
متاثرہ خاندان نے مزید کہا کہ انمول عرف پنکی کو ہم نہیں جانتے، بتایا جائے کہ پولیس نے ہمارے گھرکا پتہ ایف آئی آر میں کیسے ڈالا؟
متاثرہ خاندان نے یہ بھی کہا کہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے ہم سخت ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
ملزمہ انمول عرف پنکی کی گرفتاری
کراچی میں گارڈن کے علاقے سے کوکین اور منشیات کی بڑی سپلائر انمول عرف پنکی کو گرفتار کرکے کروڑوں روپے مالیت کی منشیات اور پستول برآمد کی گئی تھی۔
گارڈن کے علاقے میں پولیس اور سول حساس ادارے نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے ملزمہ کو گرفتار کیا تھا۔ ملزمہ کے قبضے سے ایک پستول، کروڑوں روپے مالیت کی کوکین، کیمیکلز اور دیگر نشہ آور مواد برآمد کیا گیا تھا۔
پولیس کے مطابق ملزمہ منشیات کی ڈیلنگ اور سپلائی کے ایک منظم اور وسیع نیٹ ورک کو چلا رہی تھی اور اس کے خریداروں میں طلبا سمیت بااثر شخصیات بھی شامل ہیں۔
عدالت میں پیشی پر ملزمہ انمول عرف پنکی کو پرٹوکول دیا گیا، جس پر پولیس افسران کو معطل کردیا گیا۔
ایس ایچ او گارڈن حنیف سیال، آئی او سعید احمد اور ایس آئی یو انسپکٹر ظفر اقبال کو معطل کردیا گیا ہے۔
مذکورہ واقعے کی انکوائری سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (ایس ایس پی) جنوبی کے سپرد کردی گئی ہے۔
PNP
Comments are closed.