"ایران پر دو سے تین روز میں حملہ ہو سکتا ہے، جنگ تیزی سے ختم کریں گے” ٹرمپ
ٹرمپ کا ایران پر دوبارہ حملے کا عندیہ
واشنگٹن، 20 مئی 2026: "ایران پر دو سے تین روز میں حملہ کیا جا سکتا ہے” اور "ہم یہ جنگ تیزی سے ختم کر دیں گے” امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ان بیانات نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر صدارت وائٹ ہاؤس میں ایران سے متعلق جنگی منصوبوں پر اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف عسکری اور سفارتی آپشنز پر غور کیا گیا۔
امریکی میڈیا کے مطابق ہنگامی اجلاس میں نائب صدر، وزیر خارجہ، وزیر دفاع اور اعلیٰ فوجی حکام نے شرکت کی، جہاں ایران جنگ کی موجودہ صورتحال، ممکنہ فوجی کارروائیوں اور سفارتی کوششوں کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کے حوالے سے مثبت پیشرفت ہوئی ہے اور اب جنگ کو تیزی سے ختم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کی نیوی، فضائیہ، فوج اور قیادت کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
اس سے قبل وائٹ ہاؤس بال روم کی تعمیری سائٹ کے دورے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایران کے پاس جوہری ہتھیار آیا تو وہ سب سے پہلے اسرائیل کو نشانہ بنا سکتا ہے، اس لیے ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ضروری ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران پر دوبارہ حملے کا امکان موجود ہے اور آئندہ دو سے تین روز، ممکنہ طور پر جمعہ، ہفتہ یا اگلے ہفتے کے آغاز میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔