واشنگٹن / تہران / بیروت / کویت سٹی — 28 مئی 2026ء
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کرگئی ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دائرہ کار کے مزید پھیلنے کے خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا نے آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی فوجی تنصیبات پر نئے حملے کیے ہیں، جبکہ ایران نے امریکی کارروائی کے جواب میں جوابی حملوں کا دعویٰ کیا ہے۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی افواج نے ایران کے جنوبی شہر بندر عباس کے قریب ایک فوجی مقام کو نشانہ بنایا۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی امریکی فوجیوں اور آبنائے ہرمز میں بحری ٹریفک کو لاحق خطرات کے پیش نظر کی گئی۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکی حملوں میں کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جواب میں ایک امریکی فضائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکی کارروائیاں جاری رہیں تو اس سے زیادہ سخت ردعمل دیا جائے گا۔
ادھر کویت کی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے “دشمن” میزائلوں اور ڈرونز کو ناکام بنادیا۔ کویتی حکام نے واضح نہیں کیا کہ حملے کہاں سے کیے گئے تھے، تاہم خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے۔
دریں اثنا اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے شہریوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ اسرائیلی فوج نے دریائے زہرانی کے جنوب میں تمام علاقوں کو جنگی زون قرار دیتے ہوئے شہریوں کو شمال کی جانب منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔
بین الاقوامی امدادی اداروں نے جنوبی لبنان کی صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل حملوں اور زمینی کارروائیوں کے باعث انسانی بحران سنگین صورت اختیار کرسکتا ہے۔
دوسری جانب امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی اور کسی نئے معاہدے کے حوالے سے بھی متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ معاہدے کے بدلے پابندیوں میں نرمی نہیں کی جائے گی، جبکہ ایرانی حکام مذاکرات کے حوالے سے محتاط بیانات دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر موجودہ صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو مشرقِ وسطیٰ ایک بڑے اور طویل تنازع کی جانب بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل پر بھی مرتب ہوں گے۔