by Rao Imran Suleman
Rao Nama

آبنائے ہرمز میں بیرونی مداخلت پر سخت ردعمل دیا جائے گا، ایران

تہران: ایران نے آبنائے ہرمز کے انتظام اور سیکیورٹی معاملات میں کسی بھی قسم کی بیرونی مداخلت کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے کسی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

ایرانی فوج کے مرکزی آپریشنل ہیڈکوارٹرز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی نگرانی اور انتظامی امور مکمل طور پر ایرانی افواج کے کنٹرول میں ہیں۔ حکام کے مطابق اس اہم سمندری راستے سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں کو طے شدہ قواعد و ضوابط پر عمل کرنا ہوگا۔

بیان میں کہا گیا کہ متعلقہ بحری جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ مقررہ طریقہ کار کے مطابق سفر کریں اور متعلقہ ایرانی حکام سے پیشگی منظوری حاصل کریں۔ ایران کا مؤقف ہے کہ قوانین کی خلاف ورزی یا نیوی گیشن کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش خطے کے امن اور بحری سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ایرانی حکام نے زور دیا کہ آبنائے ہرمز کی حفاظت اور انتظام قومی سلامتی سے جڑا معاملہ ہے، اس لیے اس حوالے سے کسی بھی غیر ملکی فوجی اقدام یا دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی منڈیوں تک خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی بڑی مقدار منتقل کی جاتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی توانائی کی فراہمی اور تیل کی قیمتوں پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ایران نے اپنے تازہ بیان میں ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں سلامتی، استحکام اور بحری نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ضروری اقدامات جاری رکھے گا اور کسی بھی ممکنہ مداخلت کا مناسب جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔

PNP

Comments are closed.