by Rao Imran Suleman
Rao Nama

حکومت نے 22 نہیں، 122 روپے فی لیٹر پٹرول سستا کرنا چاہیے تھا، حافظ نعیم

قوم نے 1800 ارب روپے غیر پیدا شدہ بجلی کے ادا کیے،

0

کراچی، 31 مئی (نیوز ایجنسیاں)  امیر جماعت اسلامی پاکستان، حافظ نعیم الرحمن نے مطالبہ کیا ہے کہ پٹرول کی قیمت 250 روپے فی لیٹر مقرر کی جائے، صنعتی صارفین کو بجلی 9 سینٹ فی یونٹ کے حساب سے فراہم کی جائے اور گیس کے نرخوں میں نمایاں کمی کرتے ہوئے انہیں کم از کم تین سال کے لیے منجمد کیا جائے تاکہ صنعت، تجارت اور قومی معیشت کو استحکام حاصل ہو سکے۔

کراچی میں ادارہ نورحق میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمت میں 22 روپے فی لیٹر کمی کی ہے، تاہم موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں کم از کم 122 روپے فی لیٹر کمی کی جانی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ جنگی اور غیر معمولی معاشی حالات میں پٹرولیم لیوی برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں، کیونکہ یہ لیوی ریفائنریوں کی استعداد کار بڑھانے کے لیے عائد کی گئی تھی، مگر اس مقصد کے حصول کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے۔
اس موقع پر قائم مقام امیر کراچی سیف الدین ایڈووکیٹ، سیکریٹری کراچی توفیق الدین صدیقی، رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق اور مختلف ٹاؤن چیئرمین بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی 3 جون کو اسلام آباد میں وفاقی بجٹ کے حوالے سے اپنی جامع تجاویز پیش کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئی پی پیز کے معاہدوں کا ازسرنو جائزہ لیا جائے اور غیر ضروری ادائیگیوں کا سلسلہ بند کیا جائے۔ ان کے بقول، رواں سال بھی قوم نے تقریباً 1800 ارب روپے ایسی بجلی کی مد میں ادا کیے جو پیدا ہی نہیں کی گئی۔
انہوں نے پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر حکومت کی کارکردگی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چار سال گزرنے کے باوجود اس اہم منصوبے پر کوئی مؤثر پیش رفت نہیں ہو سکی۔
ٹیکس نظام پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے نے 605 ارب روپے ٹیکس ادا کیا، جبکہ جاگیردار طبقہ 12 ارب روپے بھی جمع نہیں کرا سکا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ آئندہ بجٹ میں ایک لاکھ پچیس ہزار روپے ماہانہ آمدن رکھنے والے تنخواہ دار افراد کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا جائے اور دیگر ملازمین پر بھی اضافی ٹیکس بوجھ نہ ڈالا جائے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کو موجودہ بحرانوں سے نکالنے کے لیے عوام دوست معاشی پالیسیوں، بااختیار بلدیاتی نظام، شفاف حکمرانی اور کرپشن کے خاتمے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے مسائل کا واحد حل ایک مضبوط اور خودمختار بلدیاتی نظام ہے، جبکہ کرپشن اور بدعنوانی نے پورے انتظامی ڈھانچے کو مفلوج کر دیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ کراچی کے عوام کے لیے مختص ہزاروں ارب روپے کے وسائل ضائع کر دیے گئے، لیکن شہر کے بنیادی مسائل آج بھی حل طلب ہیں۔
انہوں نے غزہ کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل مسلسل جنگی جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے اور معاہدوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نہتے فلسطینیوں پر بمباری جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ امریکہ اسرائیل کی مکمل حمایت کر رہا ہے

Leave A Reply

Your email address will not be published.