وفاقی بجٹ 2026-27 کا حجم ساڑھے 17 ہزار ارب روپے کے لگ بھگ ہونے کا امکان
نئے مالی سال کا بجٹ: ریلیف اور ٹیکسوں کے درمیان توازن کا امتحان
اسلام آباد (ویب ڈیسک) یکم جون 2026:
وفاقی حکومت آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہے، جس کا مجموعی حجم تقریباً 17.5 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت اور International Monetary Fund کے درمیان بجٹ سے متعلق اہم مذاکرات مکمل ہو چکے ہیں اور بیشتر مالی اہداف پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ محصولات کے مقررہ اہداف حاصل کرنے اور مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے مختلف شعبوں میں اضافی ٹیکس اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ آخری ٹیکس سلیب کی حد بڑھانے پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ متوسط آمدن رکھنے والے ملازمین کو کچھ ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ بجٹ پیش کیے جانے کے وقت سامنے آئے گا۔
دوسری جانب تاجروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے، جبکہ ہائبرڈ اور الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں اضافے کے اقدامات کو بھی حتمی شکل دی جا چکی ہے۔ حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدامات ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور قومی خزانے کی آمدن بڑھانے کے لیے ضروری ہیں۔
ذرائع کے مطابق Federal Board of Revenue محصولات کے اہداف کے حصول کے لیے بجٹ میں متعدد نئے اقدامات شامل کر رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طرف تنخواہ دار طبقے کو محدود ریلیف ملنے کی امید ہے، تو دوسری جانب نئے ٹیکسوں کے باعث بعض شعبوں پر اضافی مالی بوجھ بھی پڑ سکتا ہے۔
حتمی بجٹ تجاویز وفاقی کابینہ کی منظوری اور پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کے بعد عوام کے سامنے آئیں گی، جس کے بعد ہی واضح ہو سکے گا کہ حکومت ریلیف اور محصولات کے درمیان کس حد تک توازن قائم کرنے میں کامیاب رہی ہے۔