by Rao Imran Suleman
Rao Nama

دفترِ خارجہ کا بھارتی چناب اپ لنک ٹنل منصوبے پر اظہارِ تشویش

ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی—فائل فوٹو

ترجمان دفترِ خارجہ طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت کی جانب سے چناب اپ لنک ٹنل منصوبے کے لیے بولیاں طلب کرنے کی اطلاعات اور سرکاری دستاویزات پر تشویش ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منصوبے کا مقصد سالانہ 19 لاکھ ایکڑ فٹ پانی دریائے چناب سے بیاس نظام میں منتقل کرنا ہے، دریائے چناب کے پانی کا دوسرے دریائی نظام میں رخ موڑنا سندھ طاس معاہدے کی سنگین خلاف ورزی ہے، یہ ڈیم منصوبہ بھارت کو پانی کے بہاؤ پر ایسا کنٹرول دے سکتا ہے جو سندھ طاس معاہدے کےتحت قابلِ قبول نہیں ہے،یہ اقدام معاہدات کے قانون سے متعلق ویانا کنونشن اور بین الاقوامی آبی قوانین کے اصولوں سے بھی متصادم ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا ہے کہ بھارت نے ان منصوبوں سے متعلق نہ باضابطہ اطلاع دی اور نہ ہی پاکستان سےمشاورت کی، یہ منصوبے اس امر کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنا چاہتا ہے اور بھارتی اقدامات پاکستان کی معیشت، غذائی تحفظ اور علاقائی استحکام کے لیے خطرناک نتائج کے حامل ہو سکتے ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کو مغربی دریاؤں کے پانی کے غیر محدود استعمال کا حق حاصل ہے اور پاکستان اپنے آبی حقوق اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب آپشنز محفوظ رکھتا ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پچھلے 2 ہفتے بڑی مصروف سفارتی مصروفیات میں گزرے، وزیرِاعظم شہباز شریف نے 23 سے 26 مئی تک چین کا سرکاری دورہ کیا جس میں نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار بھی ان کے ساتھ تھے اور دورے کے دوران پاکستان اور چین کے درمیان مختلف مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے۔

طاہر حسین اندرابی نے کہا کہ نائب وزیرِ اعظم نے دورۂ چین کے بعد امریکا کا دورہ کیا جہاں ان کی امریکی قیادت کے ساتھ ملاقاتیں ہوئیں، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے پاکستان کے ثالثی کے کردار کی تعریف کی۔

ترجمان نے بتایا کہ وزیرِاعظم شہبازشریف کا ایران اور کویت کے سربراہوں سے ٹیلی فونک رابطہ ہوا، اس کے علاوہ یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ کایا کالاس نے پاکستان کے دورے کے موقع پر وزیرِاعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، اسحاق ڈار اور کایا کالاس نے پاکستان یورپی یونین اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کی، یہ دورہ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات میں مثبت پیشرفت ہے، یورپی یونین کی نمائندہ نے صدر، آرمی چیف اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی سے بھی ملاقاتیں کیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کی پُرزور مذمت کرتا ہے، پاکستان سمیت 8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی قابضین کی دراندازی کی مذمت کی ہے۔

طاہر حسین اندرابی نے یہ بھی کہا کہ 8 ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے اشتعال انگیز اور غیرقانونی اقدامات فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ بھی کیا ہے۔



PNP

Comments are closed.