by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سندھ کی ترقی کے بڑے منصوبے میں 300 سے زائد سڑکیں تعمیر کی جائیں گی، ناصر حسین شاہ

کراچی اب دنیا کے خطرناک شہروں میں شامل نہیں:

0

کراچی: (ویب ڈیسک) سندھ کے وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کے نئے اراکین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اگست کے پہلے ہفتے میں کی جائے گی، جبکہ سندھ بھر میں ترقیاتی منصوبوں کے تحت 300 سے زائد سڑکوں کی تعمیر کا آغاز کیا جا رہا ہے، جن میں سے 100 سے زائد سڑکیں مکمل ہو چکی ہیں۔

کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ناصر حسین شاہ نے کہا کہ صحافیوں کے پلاٹوں کا مسئلہ ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔ اس موقع پر کراچی پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی، سیکریٹری اسلم خان اور گورننگ باڈی کے دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

انہوں نے بتایا کہ آج ہونے والے اجلاس میں نئے اراکین کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے طریقۂ کار اور دیگر امور پر تفصیلی غور کیا گیا۔

ناصر حسین شاہ نے اپنی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ نجی دورے پر ابوظہبی گئے تھے، جہاں معمول کا طبی معائنہ بھی کرایا، تاہم اسلام آباد میں گرنے یا اسپتال منتقل کیے جانے کی خبریں درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان افواہوں کے بعد جن لوگوں نے ان کی صحت یابی کے لیے دعائیں کیں، وہ ان کے شکر گزار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے وژن کے مطابق سندھ بھر میں ترقیاتی منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔ ان کے مطابق ایک وقت تھا جب کراچی کو دنیا کے خطرناک شہروں میں شمار کیا جاتا تھا، مگر اب شہر کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) میں سندھ اور کراچی کو مناسب حصہ نہیں دیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاق نے سندھ کو 100 ارب اور 200 ارب روپے فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، لیکن یہ وعدے اب تک پورے نہیں ہوئے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاق مستقبل میں سندھ کے ساتھ تعاون کرے گا۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کامیاب ثابت ہوا ہے اور مختلف ترقیاتی منصوبے ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے تعاون سے جاری ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں جہاں بھی شکایات موصول ہوتی ہیں، وہاں فوری کارروائی کی جاتی ہے۔ اسی پالیسی کے تحت ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے ٹھیکیدار کا معاہدہ بھی شکایات کی بنیاد پر منسوخ کیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.