by Rao Imran Suleman
Rao Nama

لگتا ہے نواز شریف اور مریم نواز اپنے وزیر کے ساتھ کھڑے ہیں، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کل نہ سابق وزیر اعظم نواز شریف اور نہ ہی وزیراعلیٰ پنجاب نے اپنے وزیر دفاع کے بیان کی مذمت کی، اس سے تو لگتا ہے کہ یہ اپنے وزیر کے ساتھ کھڑے ہیں۔

میرپور میں جلسے سے خطاب کے دوران بلاول بھٹو نے مسلم لیگ (ن) پر تنقید  کرتے ہوئے کہا کہ ہر الیکشن سے پہلے ن لیگ والے پتہ نہیں کیا کیا کہتے ہیں، یہ لوگ ایسے بات کرتے ہیں جیسے نہ باپ وزیر اعظم رہا ہے نہ چاچا وزیر اعظم ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر مسلم لیگ (ن) نے اپنے ادوار میں ترقیاتی کام کیے ہوتے تو آج دعوے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔

انہوں نے پنجاب، چولستان، راجن پور، وہاڑی اور پوٹھوہار کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ترقی کے دعوے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ گلگت بلتستان کے عوام نے بھی ایسے وعدوں کو مسترد کیا اور اب آزاد کشمیر کے عوام بھی اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے درست فیصلہ کریں گے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ جو لوگ قصور کو لاہور نہیں بنا سکے وہ گلگت بلتستان کو کیا لاہور بنائیں گے، یہ ایسے شیر ہیں جو حقوق دیتے نہیں حقوق کھاتے ہیں، ن لیگ والے آپ کے پیر پڑ رہے ہیں، الیکشن نکل جائیں گے تو یہ لوگ آپ کے گلے پڑ جائیں گے۔

پی پی پی چیئرمین نے کہا کہ میرپور سے ان کا تعلق آج کا نہیں بلکہ تین نسلوں پر محیط ہے اور آزاد کشمیر آکر انہیں اپنے دوسرے گھر کا احساس ہوتا ہے۔ آزاد کشمیر کے موجودہ انتخابات معمول کے انتخابات نہیں بلکہ تاریخ کے اہم ترین انتخابات میں سے ایک ہیں کیونکہ ان سے خطے کا مستقبل وابستہ ہے۔ 

بلاول نے کہا کہ ذوالفقار علی بھٹو نے پاکستان کو متفقہ اور اسلامی آئین دیا، جبکہ صدر آصف علی زرداری نے 18ویں آئینی ترمیم کے ذریعے صوبوں کے حقوق کو مضبوط بنایا۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ وہ گلگت بلتستان کی طرح آزاد کشمیر میں بھی حق حاکمیت اور حق ملکیت کا منشور لے کر آئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کے عوام کو بھی وہی آئینی اور سیاسی حقوق حاصل ہوں جو پاکستان کے شہریوں کو میسر ہیں۔ ان کے مطابق حق حاکمیت کا معاملہ صرف 12 مہاجر نشستوں تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ آزاد کشمیر کے تمام عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کا اختیار ملنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مہاجرین کو ووٹ ڈالنے اور انتخابات میں حصہ لینے کا حق حاصل ہے، تاہم آزاد کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ وہاں کے عوام کو کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ آزاد کشمیر کا نمائندہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں بھی موجود ہو اور آزاد کشمیر کا وزیر خارجہ عالمی سطح پر کشمیری عوام کا مؤقف پیش کرے۔



PNP

Comments are closed.