پاکستان دہشتگرد حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا: عاصم افتخار
پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد کا کہنا ہے کہ پاکستان دہشت گرد حملوں پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا، اپنی سلامتی اور عوام کے تحفظ کے لیے جب اور جہاں ضرورت ہوگی، حقِ دفاع کے تحت جواب دیں گے۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں افغانستان کی صورتِ حال پر اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے عاصم افتخار احمد نے کہا کہ افغانستان کی سرزمین دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ کے طور پر استعمال ہوتی رہی ہے، ان میں وہ گروہ بھی شامل ہیں جنہیں مخالفین پاکستان اور دیگر ممالک کے خلاف استعمال کرتے رہے۔
انہوں نے کہا کہ توقع تھی کہ طالبان افغانستان میں سرگرم عمل دہشت گرد تنظیموں کے خلاف اقدامات کریں گے، ان میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے، مجید بریگیڈ، داعش خراسان اور ایسٹ ترکستان اسلامی موومنٹ شامل ہیں، بدقسمتی سے طالبان ایسی کارروائیاں کرنے میں ناکام رہے ہیں، طالبان نے پاکستان اور دیگر ممالک کے جائز سیکیورٹی خدشات کو مکمل نظرانداز کیا۔
ان کا کہنا ہے کہ طالبان کے اقتدار سنبھالنے کو نصف دہائی گزر چکی ہے، اُمید کی جا رہی تھی کہ اس سے خونریزی کا خاتمہ ہو گا، افغانستان امن کی راہ پر گامزن ہو گا۔
عاصم افتخار نے کہا کہ افغان بھائیوں اور بہنوں کی مدد کے لیے پاکستان نے افغانستان کی معاونت میں متعدد اقدامات کیے، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی سرگرمیاں، سیاسی روابط اور مکالمے کے لیے اقدامات کیے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا ہے کہ دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے مراعات کی فراہمی اور ٹرانزٹ سہولتوں میں رعایتیں شامل ہیں، توقع کی جارہی تھی کہ طالبان ذمے دار حکومتی انتظامیہ میں تبدیل ہونے کے لیے مثبت اقدامات کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ اُمید تھی کہ وہ افغانستان کو استحکام اور ترقی کے ایک نئے دور میں داخل کریں گے، دہائیوں سے دہشت گردی افغانستان کا ایک سنگین مسئلہ رہی ہے، اس کے اثرات پڑوسی ممالک اور وسیع تر خطے تک محسوس کیے گئے ہیں۔
PNP
Comments are closed.