لبنان کے صدر کی اسرائیل کو براہِ راست مذاکرات کی پیشکش
بیروت: لبنان کے صدر جوزف عون نے اسرائیل کے ساتھ جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں پائیدار امن صرف بات چیت کےذریعےسےہی ممکن ہے۔
ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں صدر عون نے کہا کہ لبنان جنگ بندی اور دشمنی کے مکمل خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اسرائیل بھی آمادہ ہو تو دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنا چاہیے۔
لبنانی صدر کے مطابق کسی بھی ممکنہ معاہدے سے قبل اسرائیلی وزیرِ اعظم سے ملاقات کا کوئی ارادہ نہیں، جبکہ مستقبل کا کوئی بھی سمجھوتہ مکمل امن معاہدے کے بجائے عدم جارحیت اور کشیدگی میں کمی پر مبنی ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان دہائیوں پر محیط دشمنی کا خاتمہ خطے کے استحکام کے لیے ضروری ہے، تاہم تعلقات کی بحالی کا عمل مرحلہ وار آگے بڑھے گا۔
صدر عون نے ایران کے حوالے سے کہا کہ لبنان باہمی احترام اور عدم مداخلت کی بنیاد پر تعلقات کا خواہاں ہے، لیکن قومی مفادات کو ہر صورت مقدم رکھا جائے گا۔
ادھر لبنان اور اسرائیل کے درمیان سرحدی کشیدگی اور فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں، جس کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات اور بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے مسائل بھی برقرار ہیں۔ عالمی برادری جنگ بندی اور سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں میں مصروف ہے۔
PNP
Comments are closed.