وفاقی وزیر مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ چند دن پہلے بہت بڑے کیس سانحہ بلدیہ ٹاؤن کا فیصلہ ہوا، واقعے کے 3 سال بعد ایم کیو ایم اور اس کے کارکنوں کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔
مصطفیٰ کمال نے بہادر آباد پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میں اس سانحے کے شہداء کی فیملیز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، فیملیز نے اس فیصلے کو قبول کیا، فیملیز نے یہ کہا کہ یہ آگ مالکان کی مجرمانہ غفلت تھی، جو لوگ اس میں بری ہوئے ان کی فیملیز کو مبارکباد دیتا ہوں، یہ میرے نظریے کی جیت ہے، میں پہلے دن سے کہتا تھا کہ ایک وقت آئے گا، جب سچ سب کے سامنے آئے گا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اگر یہ وہی دور ہوتا تو یہ افراد پھانسی کے پھندے پر لٹک چکے ہوتے، میری بانی ایم کیو ایم یا کسی سے ذاتی دشمنی نہیں، جو پارٹی کوٹا سسٹم ختم کرنے اور حقوق کے حصول کے لیے بنی، وہ 12 مئی کا جواب دے رہے ہیں۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ مسائل ایک طرف بلدیہ فیکٹری کا جواب دے رہے ہیں، اس لیے ہم نے پارٹی چھوڑی، میں فروغ نسیم اور حسان صابر کو سلام پیش کرتا ہوں، اتنا بڑا فیصلہ ہوا ہے لیکن پورے پاکستان میں ایک آواز نہیں ہے کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ گل پلازہ میں آگ لگی، بانی ایم کیو ایم ہوتے تو شام میں کوئی بھتے کی پرچی دکھاتا اور کہتا کہ ایم کیو ایم نے آگ لگائی ہے، ہم نے غداری نہیں کی، ہم نے بغاوت کی تھی، جب ہمیں لگا بانی ایم کیو ایم ہماری قوم کے لیے کچھ نہیں کر پائیں گے تو بغاوت کی، جو یہاں ہے یہی ایم کیو ایم ہے۔
اُنہوں نے مزید کہا کہ آج بھی ہمیں بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، آج بھی ہمیں حقوق لینے ہیں، اگر انہی سے میری پارٹی کا سربراہ ایکسٹینشن لے گا تو یہ حقوق نہیں ملیں گے، آپ کہہ رہے ہیں پارٹی الیکشن اس لیے نہیں کروا رہے کہ جنگ چل رہی ہے جب کہ ٹی وی پر چل رہا ہے پنکی کے کام میں سرفہرست ایم کیو ایم کے ایم این اے کا نام ہے، ہم نے اس ایم این اے کے خلاف کیا ایکشن لیا۔
مصطفیٰ کمال نے کہا کہ میں لعنت بھیجتا ہوں سارے عہدوں پر جب قوم کھائی میں گر رہی ہو اور ہم کچھ نہیں کر سکیں۔
اُنہوں نے کہا کہ آپ کو لگتا ہے گالم گلوچ کر کے ڈراؤ گے، ہم تو بانی ایم کیو ایم سے نہیں ڈرے، آپ کو پارٹی سربراہ اس لیے نہیں بنایا کہ جن سے حقوق لینے ہیں ان سے سربراہی کی ایکسٹینشن کروائیں، آپ میری قوم سے مخلص ہیں، تو میں ورکر بن کر کام کروں گا۔
مصطفیٰ کمال نے مزید کہا کہ سب لوگ اپنا قبلہ درست کریں، یہ ساری گند بلا نیچے کارکنان تک سراہیت کر گئی ہے، اگر کوئی اس قوم سے مخلص ہے، تو اسے ہم سے دشمنی کیسے ہوسکتی ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ رضوان بابر کہتا ہے ہم دیکھ رہے ہیں، یہ تمہارے باپ کی پارٹی ہے، آؤ مجھے غلط ثابت کرو، میں یہیں سب کے سامنے معافی مانگوں گا، جی بی الیکشن میں ٹکٹ دے رہے ہیں اور کوئی میٹنگ نہیں ہوئی، ایک سال سے پارٹی کا کوئی اجلاس نہیں ہوا، جس لیڈر کا کردار نہیں ہے، وہ قوم کا مقدمہ نہیں لڑ سکتا ہے، ہمیں اندازہ ہوتا کہ چیئرمین ایسا ہوگا تو ہم پارٹی بند کر کے چلے جاتے کبھی مل کر نہ بیٹھتے۔
PNP
Comments are closed.