امریکا ایران ڈیل کے امکانات، اسرائیل نے تحفظات کا اظہار کر دیا
ممکنہ امریکا ایران معاہدہ، تل ابیب میں تشویش کی لہر دوڑ گئی
تل ابیب، ویب ڈیسک | 17 جون: اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کو امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات سے دور رکھے جانے پر تشویش لاحق ہو گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق نیتن یاہو نے مذاکرات کی تازہ ترین صورتِ حال جاننے کے لیے امریکی حکام سے مسلسل رابطے کیے ہیں۔ ممکنہ پیش رفت نے تل ابیب میں شدید بے چینی پیدا کر دی ہے۔
اسرائیلی قیادت کو خدشہ ہے کہ کسی حتمی معاہدے کی صورت میں امریکا ایران کو اہم رعایتیں دے سکتا ہے، جس سے خطے میں طاقت کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ کے حکام سے بات چیت کی تاکہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کی پیش رفت کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے۔
اسرائیلی ذرائع کے مطابق ان رابطوں کا مقصد یہ جاننا ہے کہ مذاکرات میں کن نکات پر بات چیت ہو رہی ہے اور کون سی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کو خاص طور پر اقتصادی پابندیوں میں ممکنہ نرمی پر تشویش ہے، کیونکہ اسے خدشہ ہے کہ امریکا معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے ایران کو اہم رعایتیں دے سکتا ہے۔
ایک امریکی اہلکار کے مطابق نیتن یاہو معمول کے مطابق امریکی حکام سے رابطے میں رہتے ہیں تاکہ مذاکراتی عمل سے باخبر رہ سکیں۔
سی این این کے مطابق اسرائیل یہ بھی چاہتا ہے کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ایران کے میزائل پروگرام اور اس کے علاقائی اتحادی نیٹ ورک پر سخت پابندیاں برقرار رہیں اور اسرائیلی فوج کو خطے میں خطرات کے خلاف کارروائی کی آزادی حاصل رہے۔