بیجنگ : چین کی وزارت تجارت کے ترجمان نے امریکہ کی طرف سے بعض مصنوعات پر “ریسیپروکل محصولات” سے استثنیٰ دینے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ امریکہ کی جانب سے بعض تجارتی شراکت داروں پر اعلیٰ “ریسیپروکل محصولات” عائد کرنے میں عارضی تخفیف کے بعد پالیسی میں دوسری ایڈجسٹمنٹ ہے۔ یہ یکطرفہ “ریسیپروکل محصولات” کی غلط طریقہ کار کو درست کرنے کی طرف امریکہ کا ایک چھوٹا سا قدم ہے۔ 2 اپریل سے نافذ ہونے والے “ریسیپروکل محصولات” نے نہ ہی امریکہ کے کسی مسئلے کو حل کیا بلکہ بین الاقوامی اقتصادی اور تجارتی نظم کو شدید متاثر کیا، کاروباری اداروں کی عام پیداواری سرگرمیوں اور عوامی زندگی پر منفی اثرات ڈالے، جو نہ صرف دوسروں کو بلکہ خود کو بھی نقصان پہنچاتا ہے ۔ترجمان نے کہا کہ چین کا چین-امریکہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے حوالے سے موقف مستقل ہے۔ چین امریکہ پر زور دیتا ہے کہ وہ عالمی برادری اور اندرونی حلقوں کی معقول آوازوں کو تسلیم کرتے ہوئے غلطیوں کی اصلاح کی طرف بڑا قدم اٹھائے، “ریسیپروکل محصولات” کی غلط پالیسی کو مکمل ختم کرے، اور باہمی احترام اور مساوی مکالمے کے ذریعے اختلافات کو حل کرنے کے صحیح راستے پر واپس آئے۔
Trending
- پمز واقعے پر پی پی، ن لیگ، ایم کیو ایم میں نورا کشتی شروع ہوگئی، حافظ نعیم
- کراچی میں بجلی کی عدم فراہمی پر پُرتشدد احتجاج کرنے والے 10 مظاہرین گرفتار
- پمز سانحہ،چین کا اسلام آباد کیلئے 21 جدید فائر اینڈ ریسکیو گاڑیوں کا تحفہ
- میر رضا قتل کیس میں جوڈیشل کمیشن کا اہم معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے نقد انعام کا اعلان
- ٹرمپ نے رائفل تھامے اپنی تصویر دوبارہ وائرل کردی؛ کس کو کھلی دھمکی دی؟
- پیٹرول، ڈیزل کی قیمت میں کمی کا اعلان
- کراچی میں مبینہ نومولود لاپتا ہونے کا معاملہ ہسپتال انتظامیہ کا مؤقف سامنے آگیا
- گلیشیئرز پگھلنے سے شمالی علاقوں کو شدید خطرات، نیپال سے زیادہ گھمبیر صورتحال پاکستان کی ہے، ماہرین نے خبردار کر دیا
- سندھ اسمبلی نے نئے صوبوں سے متعلق بحث کیلئے تحریک التوا ءمنظور کر لی
- روسی فوج کا بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ