اقوامِ متحدہ میں اسرائیلی سفارت کار اور اعلیٰ عہدیدار کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ
نیویارک میں واقع اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک عوامی تقریب کے دوران سفارتی ماحول اس وقت کشیدہ ہوگیا جب اسرائیل کے مستقل نمائندے اور اقوامِ متحدہ کی ایک سینئر عہدیدار کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔
تقریب جنگوں کے دوران خواتین اور بچوں پر ہونے والے اثرات اور مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے موضوع پر منعقد کی گئی تھی۔ خطاب کے دوران اسرائیلی نمائندے ڈینی ڈینن نے اقوامِ متحدہ کی خصوصی نمائندہ پرامیلا پیٹن پر تنقید کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیلی سفارت کار نے ایک حالیہ رپورٹ کو متنازع قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں اسرائیل کے خلاف جانبدارانہ مؤقف اختیار کیا گیا ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں اسرائیل کا نام ان فریقوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا جن پر جنگی حالات میں بچوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
تقریب کے دوران اقوامِ متحدہ کی ایک اور اعلیٰ عہدیدار نے مداخلت کرتے ہوئے اسرائیلی نمائندے کے اندازِ گفتگو پر اعتراض کیا اور کہا کہ رپورٹ تصدیق شدہ معلومات اور شواہد کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔ اس موقع پر دونوں جانب سے بلند آواز میں ردعمل سامنے آیا، جس سے اجلاس کا ماحول مزید کشیدہ ہوگیا۔
منتظمین نے صورتحال کو قابو میں رکھنے کی کوشش کی، تاہم بحث کچھ دیر تک جاری رہی۔ واقعے کی ویڈیوز اور رپورٹس بعد ازاں مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بھی زیرِ بحث رہیں۔
دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے حالیہ جائزوں میں فلسطینی بچوں پر جنگی اثرات اور مبینہ خلاف ورزیوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ عالمی ادارے کی بعض رپورٹس میں اسرائیلی آبادکار گروپوں کے کردار کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔
اسرائیل نے ان الزامات اور رپورٹس کو مسترد کرتے ہوئے انہیں سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیا ہے۔ اسرائیلی حکام کا مؤقف ہے کہ عالمی ادارے کی بعض رپورٹس زمینی حقائق کی مکمل عکاسی نہیں کرتیں۔
اقوامِ متحدہ اور اسرائیل کے درمیان ان معاملات پر اختلافات گزشتہ کئی ماہ سے جاری ہیں، جبکہ دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں۔
PNP
Comments are closed.