by Rao Imran Suleman
Rao Nama

سوئٹزرلینڈ میں امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی دور مکمل، وفود واپس روانہ

سوئٹزرلینڈ میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی دور کا اختتام ہوگیا، جس کے بعد ایرانی وفد اپنے ملک واپس روانہ ہوگیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی نمائندوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات اور دھمکی آمیز رویے پر اپنے تحفظات اور احتجاج سے آگاہ کیا۔

مذاکرات میں شریک ایرانی وفد کے رکن مہدی قربان زادہ نے کہا کہ لبنان سے متعلق معاملات کے حل تک دیگر اہم موضوعات پر تفصیلی پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق خطے میں دیرپا امن اور استحکام کے لیے لبنان کے مسائل کا حل بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

دوسری جانب امریکی ذرائع ابلاغ کی ایک رپورٹ میں ایک امریکی سفارت کار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مذاکرات کے دوران آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کو جاری رکھنے کے حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔

امریکی سفارت کار کے مطابق بات چیت کا ماحول تعمیری رہا اور تمام فریقوں نے جنگ بندی کو مؤثر اور پائیدار بنانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ مذاکرات کے دوران لبنان میں کشیدگی کم کرنے کے مختلف اقدامات پر بھی غور کیا گیا۔

رپورٹس کے مطابق سیاسی اور تکنیکی سطح پر آئندہ رابطوں کے لیے ایک فریم ورک تشکیل دینے پر اتفاق کیا گیا، جس کے تحت مستقبل میں سفارتی مشاورت اور مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات میں شامل تمام فریق مجموعی پیش رفت سے مطمئن نظر آئے اور رابطے برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے تصدیق کی کہ مذاکراتی وفد نے اپنا کام مکمل کر لیا ہے اور واپس روانہ ہوگیا ہے، جبکہ تکنیکی ٹیمیں اپنے متعلقہ امور پر کام جاری رکھیں گی۔

انہوں نے مزید بتایا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک طریقہ کار پر اتفاق ہوا ہے، جبکہ ممکنہ حتمی معاہدے کے لیے ضروری بنیادوں پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

PNP

Comments are closed.