by Rao Imran Suleman
Rao Nama

کے ایم سی کا 60 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ 28 جون کو پیش ہوگا

یونین کمیٹیوں کے ترقیاتی کاموں کے لیے ایک ارب 20 کروڑ روپے مختص

0

24 جون 2026 | کراچی

کے ایم سی کا 60 ارب 45 کروڑ روپے سے زائد کا بجٹ 28 جون کو پیش کیا جائے گا

کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) کا مالی سال 2026-27 کا بجٹ 28 جون کو پیش کیا جائے گا۔ بجٹ کا مجموعی حجم 60 ارب 45 کروڑ 14 لاکھ 30 ہزار روپے رکھا گیا ہے، جبکہ اخراجات کا تخمینہ 60 ارب 40 کروڑ 65 لاکھ 25 ہزار روپے لگایا گیا ہے۔ بجٹ 4 کروڑ 49 لاکھ 5 ہزار روپے سرپلس ہوگا۔

نجی چینل کے مطابق دستیاب بجٹ دستاویزات میں کے ایم سی کی آمدنی کے مختلف ذرائع کی تفصیلات شامل کی گئی ہیں۔ حکومت سندھ سے صوبائی گرانٹ کی مد میں 37 ارب 38 کروڑ 89 لاکھ 76 ہزار روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جبکہ ضلعی ترقیاتی پروگرام کے تحت 9 ارب روپے کے فنڈز حاصل ہوں گے۔

بجٹ دستاویزات کے مطابق لینڈ ڈپارٹمنٹ سے 2 ارب 80 کروڑ 37 لاکھ روپے، وصولیوں کی مد میں 1 ارب 25 کروڑ 50 لاکھ روپے اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے 55 کروڑ 16 لاکھ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔

کے ایم سی کی آمدنی کے حوالے سے بجلی کے بلوں میں میونسپل ٹیکس اور اشتہارات کی مد میں 5 ارب 95 کروڑ روپے جبکہ فنانس اینڈ اکاؤنٹس کے شعبے سے 84 کروڑ 81 لاکھ روپے ملنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ اراضی کی مد میں کے ایم سی کو 2 ارب 80 کروڑ 37 لاکھ روپے حاصل ہوں گے، جبکہ اینٹی انکروچمنٹ سے 31 کروڑ 78 لاکھ روپے اور چارجڈ پارکنگ سے 13 کروڑ 10 لاکھ روپے کی آمدنی متوقع ہے۔

اخراجات کی مد میں سب سے بڑی رقم اسٹیبلشمنٹ، ملازمین کی تنخواہوں اور انتظامی امور کے لیے مختص کی گئی ہے، جو 37 ارب 29 کروڑ 22 لاکھ روپے ہے۔ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ کے لیے 9 ارب 27 کروڑ 17 لاکھ روپے، طبی سہولیات اور صحت کے شعبے کے لیے 7 ارب 75 کروڑ 97 لاکھ روپے جبکہ بلدیاتی خدمات کے لیے 6 ارب 41 کروڑ 75 لاکھ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

پینشن فنڈ اور پینشنرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی مد میں 18 ارب 21 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ ترقیاتی کاموں کے لیے کے ایم سی نے اپنے فنڈز سے 8 ارب 59 کروڑ 52 لاکھ روپے مختص کیے ہیں، جبکہ مخصوص ترقیاتی پورٹ فولیو کا حجم 6 ارب 48 کروڑ 2 لاکھ روپے رکھا گیا ہے۔

بجٹ میں مختلف یونین کمیٹیوں کے ترقیاتی کاموں کے لیے 1 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔ کونسل سیکشن کے تحت ہر یونین کمیٹی کو ماہانہ ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کے لیے 29 کروڑ 52 لاکھ روپے الگ سے رکھے گئے ہیں۔

شہر کے برساتی نالوں کی صفائی اور دیکھ بھال کے لیے 80 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ شمسی توانائی پر منتقلی کے لیے مجموعی طور پر 75 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، جن میں تمام یونین کمیٹیوں کے لیے 50 کروڑ روپے اور کے ایم سی کی عمارتوں اور سڑکوں کے لیے 25 کروڑ روپے شامل ہیں۔

سڑکوں کی تعمیر اور بہتری کے لیے 40 کروڑ روپے، سڑکوں، فٹ پاتھوں اور پلوں کی سالانہ دیکھ بھال کے لیے 48 کروڑ روپے جبکہ فٹ پاتھوں، سیوریج لائنوں اور چوراہوں کی بہتری کے لیے 25 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔

تفریح اور شجرکاری کے شعبے میں پارکوں کی ترقی، خوب صورتی اور سڑکوں کے کنارے شجرکاری کے لیے 1 ارب 15 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔ پارکوں اور ہارٹیکلچر کے لیے 50 کروڑ روپے، لنگز آف کراچی (الادین پارک) کے منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے، چوکنڈی قبرستان کے ساتھ پارک کے لیے 5 کروڑ روپے جبکہ شہری جنگلات اور کڈنی ہل پارک کے لیے 2، 2 کروڑ روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں اقلیتی برادریوں کے لیے 10 کروڑ روپے کا مخصوص ترقیاتی گرانٹ فنڈ قائم کیا گیا ہے۔ ضلعی ترقیاتی پروگرام کے تحت جاری اسکیموں کے لیے 3 ارب 82 کروڑ 60 لاکھ روپے جبکہ نئی اسکیموں کے بلاک ایلوکیشن کے لیے 5 ارب 17 کروڑ 39 لاکھ روپے سے زائد کی رقم رکھی گئی ہے۔

قرضوں اور سود کی ادائیگی، متفرق اخراجات اور متوفی ملازمین کی مالی مدد کے لیے 58 کروڑ 16 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ میئر، ڈپٹی میئر اور میونسپل سیکریٹریٹ کے لیے 1 ارب 45 کروڑ 22 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.